5 Negative Side Effects of Playing PUBG Game • Vision Mag
Urdu News

5 Negative Side Effects of Playing PUBG Game

آج کل موبائل کا زمانہ ہے۔ گھر کے ہر فرد کے پاس موبائل رکھا جانا ضروری سمجھا جانے لگا۔ ایک طرف موبائل کےفوائد ہیں دوسری طرف موبائل کے استعمال کے بہت سے نقصانات بھی ہیں۔ خاص کرنوجوان نسل اور بچوں میں موبائل کے استعمال نے بری طرح متاثر کیا۔ آج کے آرٹیکل میں ہم ایک مشہور گیم پب جی کا ذکر کریں گے۔  پب جی ایک آن لائن جنگ لڑنے والی گیم ہے جس نے پچھلے کچھ عرصہ سے بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔  اس گیم میں ایک سے زائد یوزر گروپ کی شکل میں گیم کھیلتے ہیں۔ گیم کھیلنے کا مقصد اپنے مخالف پر ہر طرح کا تششد کرنا ہوتا ہے اور اسلحہ یا چھری چاقو کا استعمال کرتے ہوئے مخالف کھیلاڑی کو قتل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق اس گیم کو دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد لوگ مو بائل میں اسنٹال کر چکے ہیں اورروزانہ کی بنیاد پرگھنٹوں یہ گیم کھیلتے ہیں۔ یہ گیم پلئیر کا نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی مفلو ج کر رہی ہے۔ آئیں ہم پب جی موبائل کے کچھ انتہائی خطرناک نقصانات کے بارے میں بتاتے ہیں

انتہائی پر تشدد

پب جی گیم کھیلنے والے لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ گیم میں موجود خطرناک ہتھیار کا استعمال ہے۔ اس گیم میں داخل ہونے کے بعد آپ گروپ کی شکل میں ایک بستی، گاؤں کے لوگوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ گیم کا اصل مقصد لوگوں کو قتل کرنا ہوتا ہے۔قتل کرنے کے بعد املاک پر قبضہ کرنا بھی اسی گیم میں شامل ہے۔ جس کے لیے آپ ہر طرح کا آتشی ہتھیارجیسا کہ بندوق، چاقو، دستی بم وغیرہ کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ گیم میں اس طرح کا جارہانہ رویہ اختیا ر کرنا گیم پلئیر کو نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔ گیم استعمال کرنے کے بعد گیم کھیلنے والے لوگوں کا ذہن جرائم کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ خاص کر نوجوان اور بچوں کے لیے یہ انتہائی خطرناک صورت حال کا باعث بن سکتا ہے۔ ہمیں باوثوق ذرائع سے معلومات حاصل کی ہیں کہ اس گیم کے استعمال کے بعد دنیا بھر سے کئی لوگ خودکشی جیسے اقدام کر چکے ہیں جس کے  بارے میں اب پاکستان میں سنا جا رہا ہے۔

سماجی تعلقات

ایک وقت تھا کہ نوجوان وبچے گھر کے بڑے لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ جس سے ان کو اچھی بری باتوں کے بارے میں اگاہی ہوا کرتی تھی لیکن وقت سے ساتھ ساتھ یہ روایت ختم ہوتی چلی گئی۔ جب سے موبائل ہمارے معاشرے کا حصہ بنا تو نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی یہاں تک عادی ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس بڑوں کے درمیان بیٹھنے کا وقت نہیں۔ نوجوان و بچے ساری ساری رات موبائل میں مصروف رہتے ہیں اور جان لیوا گیم پب جی کھیلتے ہیں۔ پب جی کھیلتے ہوئے گروپ کی شکل میں افراد ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست بات چیت کر ستکے ہیں اور دوران گیم وہ اخلاق سے گری باتیں اور حتی کہ گالی گلوچ سے بھی پرہیز ہیں کرتے ہیں،۔  

گیم کا عادی

ایک اندازے کے مطابق پب جی گیم کھیلنے والے اپنا زیادہ تروقت گیم کھیلنے پر ہی خرچ کرتے۔ گیم کا عادی ہو جانا مہلک ہو سکتا ہے جس کا خاص کر اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ گیم میں ہر وقت مصروف ہونے کی وجہ سے ان کے پاس کسی دوسری سرگرمیوں کے لیے وقت نہیں ہوتا۔  

پڑھائی کا نقصان

والدین اپنے بچوں کی پڑھائی کو لیکر اکثرو بیشتر پریشان رہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے ان کے بچے کسی اعلیٰ سکول میں تعلیم حاصل کریں تاکہ ان کا مستقبل تابناک ہو جائے۔ پب جی گیم کھیلنے والے افراد گیم میں اتنے مگن ہوجاتے ہیں کہ ان کو پڑھائی کا خیال نہیں رہتا اگر یہ پڑھنے بیٹھ بھی جائیں تو جارہانہ گیم کھیلنے کے بعد ان کا دماغ تھک چکا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔ آخر کار ان کو امتحانات میں خراب نتیجے کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ذہنی و جسمانی صحت

اگر آپ کسی بھی ڈاکٹر سے نصیحت لیں تو وہ آپ کو بتائے گا کہ زیادہ دیر ایک ہی جگہ پر منجمند ہو کر بیٹھنا صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ذیادہ دیر بیٹھنا پہلے آپ کو کاہل بناتا ہے بعدازاں آپ مستقل سردرد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ تر موبائل سکرین کو دیکھنا آنکھوں کی بینائی کو کمزور کرنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔ مزید آپ کمر درد کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ مستقل موبائل کا استعمال آپ کی نیند میں خلل ڈالتا ہے اور آپ کو طرح طرح کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آخر میں نوجوانوں اور بچوں سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ اس گیم کو نہ کھیلیں یہ گیم آپ کو ذہنی طور پر جارہانہ بنا دیتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ گھر والوں سے اور اپنے دوستوں سے لڑائی و تشدد کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ۔ اس طرح بچوں کی پڑھائی اوربڑوں کی نوکری یا کاروبار کا نقصان ہو سکتا ہے۔

Ruqia

Well! This is Ruqia living in Lahore, Pakistan. I am very glad to inform my valuable users visiting my website that I am a blogger. My ambition to work online is to facilitate the people of my community. As far as my hobbies are concerned, I love to play Badminton, Swimming and obviously watching cricket. My passion is to connect with good people around the world.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close