BA English

BA English Short Stories Notes | Punjab University

You are student of BA/BSC and looking for BA English Short Stories Notes. It has been noticed with great concerned that people are selling notes on the internet to the needy and impoverished students. Wait here! We have brought unique BA English Short stories notes for free of cost. Important points from all stories have been mentioned in detail. Summary in Urdu Language is added to clear the concept of the students about the every story. After detail discussion with the teaching personnel, important/expected questions have been given at the end of each story. We assure that you can get high marks in the subject of English if you get prepared the stories with our educational material.

THE KILLERS (EARNEST HEMINGWAY)

Characters:

  1. Al and Max (Killers)
  2. Ole Anderson (Professional retired boxer / to be killed)
  3. George (Waiter in the Henry’s Lunch Room.
  4. Nick Adams (Counterman)
  5. Sam (Cook)

Important Points in English:

  1. Al and Max are two professional killers.
  2. They want to kill Ole Anderson. They enter in the Henry’s Lunch Room (Restaurant).
  3. They place order to George in a very vulgar manner.
  4. They are waiting for Anderson who is professional retired heavy weight boxer as they want to kin him.
  5. They make hostage of the crew of restaurant at gun point and they tie Nick Adams and Sam back to back thrusting towels in their mouths in the kitchen of the restaurant.
  6. They crew asked why they are doing these activities, in response the Al and Max tell that they want to kill Anderson bust because they want to oblige their friend. Their friend was also a boxing champion and during a match he was beaten by the Anderson, therefore Al and Max want to kill him to give surprise their friend.
  7. After their long wait they left the place as Anderson doesn’t in the restaurant. They moved from there however left shadow of death.
  8. Dye to fear, the crew of the hotel decided to leave the job and even that place.
  9. George goes to kitchen and unties Sam and Nick Adams.
  10. After that Nick Adams decided to intimate Anderson about this incident. When Nick tells to Anderson, he doesn’t bother and remains calm. Nick says we should inform to police however, Anderson says that there is no use of it.

Summary in Urdu

:مختصر تعارف

اس کہانی میں ہمیں دو پیشہ ور قاتلوں کے متعلق بتایا گیا ہے۔ جو ایک سویڈیش باکسر آل اینڈرسن کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ان قاتلوں کے نام آل اور میکس ہیں وہ اپنے ایک دوست کو خوش کرنے کے لیے اسے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کا شکار آل ایںڈرسن عام طور پر شام کا کھانا “ہنری کے لنچ روم” میں آ کر کرتا ہے۔ یہ ہوٹل شگاگو کی ریاست کے ایک قصبے میں واقع ہے۔ اس لئے وہ شام کو پانچ بجے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔

:قاتلوں کی ہوٹل آمد

دونوں جسامت اور شکل و شبہات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ دونوں نے دستانے اور جست لباس پہنے ہوئے ہیں۔ دونوں ہوٹل میں داخل ہو کر کاونٹر والی میز کی ایک جانب بیٹھ جاتے ہیں۔ کاونٹر کلرک ںک آڈم کاونٹر کے دوسرے سرے پر موجود ہے۔ انہیں اس بات پر بہت مایوسی ہوتی ہے کہ ان کا شکار اس دن وہاں نہیں آتا۔

:ہوٹل کے عملہ سے سلوک

وہ ہوٹل کے ویٹر جارج اور ملازم نک اورخبشی نسل باورچی کے ساتھ نہایت ہی سفاکانہ سلوک کرتے ہیں۔ نک اور باورچی سام کو باورچی خانے میں جا کر بند کر دیتے ہیں۔ ان  کے منہ پر کپڑاٹھونس دیتے ہیں۔ جارج کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس دوران کسی گاہگ کو وہاں مت آنے دیں۔ ان کی اس کاروائی کا مطلب دہشت اور خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ جب وہ ہوٹل سے باہر چلے جاتے ہیں تو کافی دیر تک ملازم دہشت زدہ ماحول میں بے حس و حرکت کھڑے رہتے ہیں۔

:آل ایںڈرسن کا رد عمل

قاتلوں کے چلے جانے کے بعد جارج باورچی خانے میں جاتا ہے اور نک اور باورچی سام کو آزاد کرتا ہے دونوں بہت خوفزدہ ہیں۔ جارج انہیں بتاتا ہے کہ وہ دونوں پیشہ ور قاتل ہیں اور وہ سویڈیش باکسر آل آینڈرسن کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ نک اور جارج محسوس کرتے ہیں کہ انہیں آل اینڈرسن کو قاتلوں کے منصوبے سے آگاہ کرتا ہے۔ لیکن اینڈرسن اس بات کا کوئی اثر نہیں لیتا۔ نک قاتلوں کے بارے میں تفصیل سے بتاتا ہے  لیکن آل اینڈرسن اس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ نک اس مشورہ دیتا ہے کہ وہ جان بچانے کے لیے کچھ کرے۔ لیکن اینڈرسن اسے بتاتا ہے کہ وہ ساری عمر جان بچانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتا رہا ہے۔ اب وہ جان بچانے کی کوشش نہیں کرنا چاہتا۔ اس کہانی کے مصنف نے قتل کے جرم کا ارتکاب بیان کرنے کی بجائے اس کے لیے کی جانے والی تیاری کو بیان کیا۔ اس طرح اس نے کہانی کو پرسرار بنایا ہے اور اس میں خوف اور تجسس کے جذبات کو پیدا کیا ہے۔  

:آل ایںڈرسن کا رد عمل

قاتلوں کے چلے جانے کے بعد جارج باورچی خانے میں جاتا ہے اور نک اور باورچی سام کو آزاد کرتا ہے دونوں بہت خوفزدہ ہیں۔ جارج انہیں بتاتا ہے کہ وہ دونوں پیشہ ور قاتل ہیں اور وہ سویڈیش باکسر آل آینڈرسن کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ نک اور جارج محسوس کرتے ہیں کہ انہیں آل اینڈرسن کو قاتلوں کے منصوبے سے آگاہ کرتا ہے۔ لیکن اینڈرسن اس بات کا کوئی اثر نہیں لیتا۔ نک قاتلوں کے بارے میں تفصیل سے بتاتا ہے  لیکن آل اینڈرسن اس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ نک اس مشورہ دیتا ہے کہ وہ جان بچانے کے لیے کچھ کرے۔ لیکن اینڈرسن اسے بتاتا ہے کہ وہ ساری عمر جان بچانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتا رہا ہے۔ اب وہ جان بچانے کی کوشش نہیں کرنا چاہتا۔ اس کہانی کے مصنف نے قتل کے جرم کا ارتکاب بیان کرنے کی بجائے اس کے لیے کی جانے والی تیاری کو بیان کیا۔ اس طرح اس نے کہانی کو پرسرار بنایا ہے اور اس میں خوف اور تجسس کے جذبات کو پیدا کیا ہے۔  

Important Questions

  1. Discuss the Killer as story of horror and suspense.
  2. Discuss the Killer as story of criticism on American Society.
  3. Failure of law enforcing agencies of America.
  4. Who is a code hero?

RAPPACINNI’S DAUGHTER
(NATHANIAL HAWTHORNE)

Characters:

  1. Professor Rappacinni (A Scientist)
  2. Beatrice (Daughter of Rappacinni)
  3. Giovanni (Lover of Beatrice)
  4. Professor Baglioni (Professor of Botany at Padua University & Friend of Rappacinni)

Important Points in English

  1. Giovanni comes to study at Padua University.
  2. He states in a room of which window opens towards the garden.
  3. He observes that garden carefully.
  4. Beatrice comes to the garden. She is looking after the garden.
  5. Beatrice is a beautiful 35 years old girl.
  6. She has not been allowed by her father to meet anyone outsider.
  7. She was confined to his house and a poison garden only.
  8. Giovanni at his first glimpse falls in love with Beatrice.
  9. Love between Beatrice and Giovanni is reflecting (both love each other)
  10. One day he observes some strange incidents such as:-
    1. She plucks a flower from a bush, a drop of water falls on the head of insect, it dies instantly.
    1. Once some insects were flying over her head, she gives forth her breath, the insects die at once.
  11. Professor Baglioni had already warned to Giovanni about the family and deadly science of Prof. Rappacinni.
  12. Giovanni has now been confirmed that Beatrice is a poison girl but despite of all that his love for Beatrice continues.
  13. Baglioni gives antidote to Giovanni for Beatrice because she would become a normal girl so that Giovanni can continue have relationship with her.
  14. Giovanni gives antidote the Beatrice. She knows that this antidote will work against her despite of this she takes it to prove her true love and dies instantly. She says while breathing last that “I would rather have been loved not feared.
  15. Meanwhile Professor Rappacinni and Professor Baglioni came into the room. Professor Baglioni says that is it result of your experiments? Your only daughter has been died now.   

Summary in Urdu

رپے چینی کی لڑکی، یہ ایک تصواتی کہانی ہے۔ رپے چینی جڑی بوٹیوں کا مشہور سائنسدان ہے۔ وہ اٹلی میں رہتا ہے۔ اسے جڑی بوٹیوں اور پودوں پر تحقیق کرنے کا بہت شوق تھا۔ اسے زہریلے پودے اگانے کا جنون تھا۔  وہ ایک حریص، لالچی اور خود غرض انسان تھا۔ وہ انسانیت کی بجائے سائنس کی دریافتوں اور ایجادات میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ وہ جڑی بوٹیوں سے ایسی دوائی تیار کرنا چاہتا تھا جو انسان کو دوسروں کے لئے زہریلا اور خطرناک بنا سکے۔ لیکن خود ہر قسم کے زہر سے محفوظ ہو جائے۔ اس نے ایک فارمولا دریافت کیا جس کی مدد سے اس نے اپنی بیٹی کے جسم میں چند زہریں داخل کیں۔ اس کی بیٹی کا نام بیٹرس تھا۔ وہ ہر قسم کے زہر سے محفوظ ہوگئی لیکن وہ خود ایک مہلک زہر بن گئی۔  ڈاکٹر رپے چینی کا پودوں اور پھولوں کا ایک باغ تھا۔ اس میں پانی کا ایک تلاب تھا۔ اس تالاب میں مختلف قسم کے پتے اور شاندار پھول اگے ہوئے تھے۔

پودوں پر تحقیق کرنے کا بہت شوق تھا۔ اسے زہریلے پودے اگانے کا جنون تھا۔  وہ ایک حریص، لالچی اور خود غرض انسان تھا۔ وہ انسانیت کی بجائے سائنس کی دریافتوں اور ایجادات میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ وہ جڑی بوٹیوں سے ایسی دوائی تیار کرنا چاہتا تھا جو انسان کو دوسروں کے لئے زہریلا اور خطرناک بنا سکے۔ لیکن خود ہر قسم کے زہر سے محفوظ ہو جائے۔ اس نے ایک فارمولا دریافت کیا جس کی مدد سے اس نے اپنی بیٹی کے جسم میں چند زہریں داخل کیں۔ اس کی بیٹی کا نام بیٹرس تھا۔ وہ ہر قسم کے زہر سے محفوظ ہوگئی لیکن وہ خود ایک مہلک زہر بن گئی۔  ڈاکٹر رپے چینی کا پودوں اور پھولوں کا ایک باغ تھا۔ اس میں پانی کا ایک تلاب تھا۔ اس تالاب میں مختلف قسم کے پتے اور شاندار پھول اگے ہوئے تھے۔

بیٹرس کا تعارف

بیٹرس ڈاکٹر کی خوبصورت بیٹی تھی۔ وہ تندرست اور توانا تھی۔ وہ مہلک پودوں کے درمیان رہتی اور ان میں سانس لیتی تھی۔ جب وہ باغ میں کام کرتی تواسے ایک نوجوان لڑکا گیوانی اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھتا رہتا۔ کھڑکی اس کے باغ میں کھلتی تھی۔ گیوانی پڑھنے کے لئے اٹلی کے جنوب سے آیا تھا اوروہ پیڈوا یونیورسٹی میں پڑھتا چاہتا تھا۔ اس نے بیٹرس کو پسند کر لیا اور اسے محبت کرنے لگا۔

پروفیسر باگ لیانی کا تعارف

گیووانی نے بیٹرس کے متعلق اپنی استاد باگ لیانی سے گفتگو کی۔ باگ لیانی یونیورسٹی میں سائنس کا مشہوراستاد تھا۔ باگ لیانی ڈاکٹر رپے چینی اوراس کی بیٹی کے متعلق اچھی رائے نہیں رکھتا تھا۔ اس نے گیوانی کو بتایا کہ ڈاکٹر رپے چینی ایک ایک اسی مہلک زہر بنا رہا ہے جو بنی نوع انسان کے لئے تباہ کن ہے۔ اس نے گیوانی کو تنبہ کی کہ وہ ڈاکٹر رپے چینی اور اس کی بیٹی سے جتنا ہو سکے بچ کر رہے۔

گیوانی کا بیٹرس کے عشق میں گرفتار ہونا

نوجوان عاشق کھڑکی سے اپنی محبوبہ کو کام کرتے دیکھتا رہتا۔ ایک شام اس نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ بیٹرس اپنے باغ میں کام کر رہی تھی۔ اس نے ایک پودے سے پھول توڑا اور اسے اپنے چھاتی کے قریب لے آئی۔ اس لمحے ایک سنگتری رنگ کا جانور اور اس پودے کے قریب آیا۔ اس پھول کے رس کے ایک یا دہ قطرے اس جانور کے سر پر گرے اور یہ جانور فوری طور پر مر گیا۔  اگلے لمحے باغ کی دیوار پر ایک خوبصورت کیڑا نظر آیا بیٹرس نے اس کیڑے کو ایسی بچگانہ مسرت سے دیکھا کہ وہ بے ہوش ہو گیا اور اس کے قدموں میں آگرا۔ گیوانی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پھولوں کو بیٹرس کی طرف پھینکا بیٹرس نے اس تحفے کوقبول کر لیا۔ اس نے ان پھولوں کو چھاتی کے ساتھ لگایا تو وہ مرجھا گے۔ گیوانی اس کی اس مافق الفطر طاقت پر خوفزدہ ہو گیا۔ اس نے اپنی مالک مکان کی مدد سے بیٹرس کو ملنے کا پروگرام بنایا۔ وہ اسے باغ میں اور اسے معلوم ہواکہ کہ باغ میں اگے ہوئے پھول فطری نہیں تھے۔ ان کے درمیان بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ایک دوسرے کے قریب ہو گئے۔ ان کی محبت پاک تھی اور یہ جسمانی محبت نہیں تھی۔ اس کی بیٹرس سے باقاعدہ ملاقاتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود بھی ایک زہریلا انسان بن گیا۔

:بیٹرس کی موت

اس نے کیڑے پر سانس لیا اور وہ بھی مر گیا وہ بیٹرس کے پاس گیا اس نے بیٹرس پر زہریلا ہونے کا الزام لگایا۔ بیٹرس نے اعتراف کیا کہ وہ بلاشبہ زہریلی ہے لیکن اس میں اس کا کوئی قصور نہ ہے۔ اس کے والد کی سائنس کے ساتھ جنون کی حد تک محبت نے اسے معاشرے سے علیحدہ کر دیا ہے۔ اس کا جسم زہریلا ہے لیکن اس کی روح خدا کی تحلیق ہے اور پاک ہے۔ اس کی روح کو روز مرہ کی خوارک کے طور پر محبت کی ضرورت ہے۔ گیوانی نے اس ایک دوائی پلائی جو اس کے تمام زہروں کو ختم کر سکتی تھی۔ اس نے دوائی پی اور وہ فورا مر گئی۔ اس کی موت بہت الم ناک تھی۔ وہ اپنے باپ کی سائنس کا شکار ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ مرتے مرتے بیٹرس نے کہا کہ کاش مجھے سے محبت کی جاتی مجھے ازمایا نہ جاتا۔    

Important Questions

  1. Discuss the story as fantasy
    1. Fantasy means a story which is written on imaginations and far away from the realistic approach of life.
  2. Discuss story as a science fiction.
  3. Discuss the story as love story.
  4. Character of Professor Rappacinni.
  5. Characterization of Professor Baglioni.
  6. A war between good and evil.  

NEW CONSTITUTION (SAADAT HASSAN MANTO)

Characters:

  1. Ustad Mango (Tanga Driver)
  2. Gora Soldier (British Soldier)
  3. Natho / Dino (Friend of Ustad Mango)

Important Points in English:

  1. Ustad Mango hates the British from the core of his heart.
  2. He is of the view that they are very cruel to the common Indian people.
  3. The common Indian persons want to get rid of the cruel, colonial and imperialistic system.
  4. Mango calls them in very inhumanly. He calls them lepers, white mice and decaying carcasses.
  5. One day some lawyers were travelling in his Tanga and they were talking about some new constitution in English. Ustad Mango however managed to understand that about a new constitution which is going to promulgate from the 1st April, 1935.
  6. He thinks that the raj of British people would be end and Indian people would be free from the cruel British system from 1st of April.
  7. He was waiting very impatiently far 1st April.
  8. He sets his Tanga especially on that specific day and came on the roads of Lahore very early in the morning. He was little depressed to see on the roads that everything is normal. Cars are running usually, shops are opened as it is, people are not excited. There was no particular change. He is hoping that people would be dancing on the streets.
  9. He want to Cantonment area to drop a fare and he saw a Gora soldier was there and he was the same one who insulted the Ustad Mango in a market publically.
  10. The Gora solder wanted to get ride on Tanga. Ustad Mango asked him five rupees charges for the fare. The Gora replied to him that are you mad.
  11. In response, under the pretext of new constitution, Ustad Mango exchanged rough words with the soldier and started to beat him.   
  12. Police came there and they arrested the Ustad Mango and locked up. He was continuously shouting new constitution. He was saying that the era of British Colonial system ended after new constitution.
  13. The police officer said him that what is new constitution? Everything is same. It is the same constitution you fool!

Summary in Urdu

:انگریزوں کے خلاف منگو کی نفرت

کہانی کا مرکزی کردار ایک ٹانگے کا کوچوان ہےجس کا نام منگو تھا۔ وہ لاہور میں رہائش پذیر تھا۔ وہ ایک ان پڑھ شخص تھا لیکن دنیا دار تھا۔ اسے ملک کی سیاست کی کافی سمجھ بوجھ تھی۔ وہ انگریز سے نفرت کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ انگریزغاصب اور ظالم لوگ ہیں۔ جو ہندوستانی لوگوں کی مرضی کے خلاف ان پر حکومت کر رہے ہیں۔ انگریزوں کے سرخ چہرے اسے متعفن لاشوں کی یاد دلاتے تھے۔ کسی شرابی گورے کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد وہ کئی دنون تک مایوس رہتا۔ وہ گوروں کو کوڑھی کے نام سے پکارتا۔

نیا قانون:

ایک دن استا منگو نے ضلع کچہری سے دوسواریوں کو اپنے ٹانگے میں بٹھایا۔ اس نے ان کی گفتگو سے اندازپ لگا کہ یکم اپریل 1935 سے ہندوستان میں نیا قانون نافذ ہو رہا ہے۔ یہ اس کے لئے مسرت کی خبر تھی اس نئے قانون کی وجہ سے وہ برطانوی سامراج سے نجات حاصل کر لیں گے اور اس کی وجہ سے ان کے انسانی حقوق بحال ہو جائیں گے۔ وہ اپنے پرانے دوست نتھو سے ملا اور اسے نئے قانون کے متعلق بتایا کہ ا س کے نفاذ سے ان کے غم اور مصیبت کے دن ختم ہو جائیں گے اس خبر سے ان میں جوش و خروش پیدا ہو جاتا۔

سواریوں سے گفتگو:

ایک دن اس نے اپنے ٹانگے کی پچھلی سیٹ پر دو وکیلوں کو بٹھایا۔ وہ نئے قانون کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ وہ دونوں وکیل نئے قانون کے مخالف تھے اس نے انہیں خوشامد پرست اور ٹوڈی کا خطاب دیا۔ تین دن بعد اس نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تین طالب علموں کو مزنگ کے لئے اپنے ٹانگے میں بٹھایا۔ وہ بھی نئے قانون کے بارے میں تسلی بخش گفتگو کر رہے تھے۔۔

آخر کار مارچ کے اکتیس دن ختم ہوئے۔ یکم اپریل کواستاد منگو اپنے معمول سے پہلے اٹھا۔ وہ اپنے اصطبل میں گیا اور اپنے ٹانگے کو سڑک پر لایا وہ آج زندگی میں نئی تبدیلی کا تجربہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ شہر کی وسیع اور تنگ سڑکوں پر گیا لیکن اس ہر شے پرانی اور اداس نظر آئی۔ وہ زندگی میں نیا رنگ اور نئی روشنی دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن کوئی شے نئی نہیں تھی۔ لوگ شہر میں اس طرح سے حرکت کر رہے تھے جیسے کوئی نئی شے رونما نہیں ہو رہی۔ وہ بہت مایوس ہو گیا لیکن پھر بھی ان تبدیلیوں کے متعلق سوچ رہا تھا جو نیا قانون لانے والا تھا۔

گورے سپاہی کے ساتھ منگو کا تنازع

اچانک اے ایک گورا سپاہی لیمپ پوسٹ کے قریب کھڑا ہوا نظر آیا۔ اس نے گورے سے پوچھا وہ کہاں جانا چاہتا ہے۔ گورے نے بتایا کہ وہ رقص کرنے والی لڑکیوں کے بازار میں جانا چاہتا ہے۔ منگھو نے پہچان لیا کہ یہ وہ ہی سپاہی ہے جس کا پچھلے سال اس کے ساتھ جگھڑآ ہو گیا تھا۔ منگھو نے کرائے کے طور پر اس ے پانچ روپے مانگے۔ گورے نے اسے اپنی بے عزتی سمجھا اور سے منگھو کو چھڑی سے مارا۔ منگھو نے اپنے بازہ کو اوپر اٹھایا اور اس کی ٹھوڈی پر مکہ مارا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے انگریز کو بے رحمی کے ساتھ پیٹا وہاں ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ منگھو نے ہجوم کو بتایا کہ اب ہندوستان میں نیا قانون نافذ ہو چکا ہے۔ منگھو چلایا “نیا قانون نیا قانون” اتنے میں پولیس آئی اور منگھو کو گرفتار کر کی جیل میں ڈال دیا گیا۔

Important Questions

  1. Ustad Mango is a type character, discuss?
    1. A character who represents the common man is referred to type hero or type character
  2. Discuss the dreams and illusions of Mango and brief that how they shattered / scattered?
  3. Cruel system would be end
  4. They have their own elected government.
  5. They would be a free nation.
  6. Every Indian would be given equal system.
  7. The imperialistic system would be end from 1st of April 1935.
  8.  Mango fight with Gora.
    1. When Ustad Mango goes to Cantonment area to drop a fare and on his return to back he saw a Gora Soldier was standing there. He recognizes that it was the same Gora who had insulted him in the market in publically. Gora wanted to get ride on the Tanga of Ustad Mango. He asked fare charges and Mango said he would take Rs.5. Thus the fighting discussion starts between two. Gora says that are you mad? Are you in your sense etc.
    2. In response to that under the pretext of new constitution, Ustad Mango started to beat Gora Soldier. Huge amount of people gathered there. Meanwhile police comes and arrests the Ustad Mango and locks up him. The Ustad Mango was continuously shouting about the new constitution. The police officer says that what is new constitution? Nothing change has been made. You are a fool person.
    3. All dreams and illusions of the Ustad Mango were scattered.  

Breakfast (John Steinbeck)

Characters:

  1. The Author (Passing Valley)
  2. A Woman (Cooking Breakfast)
  3. A Child (Nursing all the time in the lap of mother)
  4. Young Man (Husband of Woman)
  5. Old Man (Father of Man)

Important Points in English:

  1. It is the time of economic slump during 1930. When every other industry destroyed due to crash of economic around the world.  
  2.  It is downtime. The author is passing through a valley in very a very cold weather.
  3. The author of the story is feeling cool and enjoying beauty of the nature.
  4. Suddenly he sees a tent and flame. He sees that a women having a baby in her lap is making breakfast for her family.
  5. To warm his hands he gets closer to fire.
  6. Meanwhile two men come out from tent and say good morning to author. They invited the author for breakfast and he accepts offer readily.
  7. The woman serves the breakfast in very simple manner on the packing case.
  8. John Steinbeck enjoys the breakfast.
  9. He is very happy to see the simplicity of the people. He is amazed to see how these people are living simple, un-polluted and peaceful life.
  10. It is being told by the family that they are cotton pickers. They reveal that with their 12 days working they have earned enough money to purchase cloths, food and necessary items to live that kind of happy life.
  11. The author says that the old man chews and swallows having been said thank you God.
  12. After finishing of breakfast and taking coffee, the author decides to move forward, meanwhile the old man says that he can manage job for him.
  13. Anyhow the authors thanks the family for hospitality and moves forward.
  14. He is thinking about the family and making himself happy that how these people are living prosperous life despite earning little livelihood.

Summary in Urdu

:مختصر تعارف

یہ کہانی ایک غریب خاندان کے متعلق ہے۔ جو بہتر زندگی گزرنے کے لئے بہت محنت کر تا ہے۔ خاندان ایک سادہ لیکن قناعت سے بھر پور زندگی بسر کرتا ہے۔ وہ مزدور لوگ ہیں۔ وہ کپاس چننے کا کام کرتے ہیں۔ یہ وقتی اور عارضی کام ہے۔ ان کے پاس صرف بارہ دن کا کام ہے لیکن وہ بہت خوش ہیں۔ خاندان کا سربراہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے۔ کیونکہ اس نے انہیں بارہ دن کی روزی فراہم کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی بہت طاقت والا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہم بارہ روز حلال کی روزی کھائیں گے۔ اپنی غربت کے باوجود نہ کسی نظام کے خلاف ہیں اور نہ کسی فرد کے خلاف ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نہ کوئی شکایت ہے اور نہ کوئی غصہ، قناعت کی اس دولت کی بناء پر جو اس خاندان کے پاس ہے۔ مصنف اس خاندان سے اپنی ملاقات کو مستقبل میں بھی یاد رکھتا ہے۔

:مصنف کی ملاقات

مصنف اس خاندان سے صبح سویرے ملا۔ وہ وادی میں سیر کر رہا تھا۔ یہ ایک ٹھنڈی صبح تھی۔ وہ دیہات کی ایک سڑک پر سیر کر رہا تھا۔ اس نے سیر کے دوران ایک خیمہ دیکھا۔ خیمے کے قریب ایک زنگ آلود تیل کا چولہا جل رہا تھا۔ مصنف نے چولہے کے قریب ایک عورت کو دیکھا۔ اس نے اپنی گود میں ای بچہ بٹھایا ہوا تھا اور ناشتہ تیار کر رہی تھی اس کی حرکات و سکنات مختصر لیکن تیز اور مستعد تھیں۔ وہ سور کا گوشت پکا رہی تھی۔ مصنف اپنے ٹھنڈے اور ٹھٹھرے جسم کو گرم کرنے کے لیے چولہے کے قریب گیا۔ خیمے کے پردے والا کپڑا تھوڑا سا کھسکا اور اس میں سے ایک نوجوان ایک بوڑھے کے ساتھ بر آمد ہوا۔ وہ تیز اور ذہین چہرے والے لوگ تھے اور وہ ایک جیسے دکھائی دیتے تھے۔ ان سب نے چولہے پر اپنے ہاتھوں کو گرم کیا۔

:مہمان نوازی

خاتون اپنے کام میں مصروف رہے ۔ اس نے ٹرنک کے اوپر چھری کانٹے اور پلیٹوں میں گوشت رکھا۔ مصنف کو بھی کھانے کی دعوت دی گئی ۔ مصنف کو معلوم ہوا کہ وہ کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور ہیں اور کپاس چننے کا کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس صرف بارہ دن کا کام ہے۔ انہوں نے اپنی پلیٹوں میں گوشت اور بسکٹ رکھے۔ بوڑھے آدمی نے بھر بور انداز میں ناشتہ کیا۔ اس نے اپنے کھانے کو خوب چباکر کھایا اور اللہ تعالی کا شکر کیا۔ نوجوان نے مصنف سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے ساتھ کپاس چننے کا کام کرے گا۔ لیکن مصنف نے اس کی دعوت کو نرمی کے ساتھ نامنظور کر دیا۔ اس کے بعد وہ کھڑے ہو گئے اور جدا ہونے کے لئے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا۔ مصنف غریب لوگوں کے ساتھ اپنی اس ملاقات کو بھلا نہ سکا۔ کیونکہ ان کے پاس قناعت اور سکون کی دولت تھی۔

Important Questions

  • A criticism on modern urban life, discuss?
    1. People are very busy.
    2. They enjoy luxury of life but found worried all the time.
    3. Pollution problems in the urban life.
    4. People are not happy despite having all the things.
  • Story tells the purity of living, discuss?
    1. A simple family.
    2. Having simple food.
    3. Simple cloths.
    4. They are free from affectation.
    5. Way of breakfast is simplified.
    6. Passing polluted free life.
    7. Purity of nature.
  • Message of the story.
  • What were the reasons which makes author happy.
  • Simplicity is key contented.

Take Pity (Bernard Malamud)

Characters:

  1. Axal Kalish (Polish Refugee)
  2. Eva (Wife of Axal Kalish)
  3. Rosen (A Coffee Salesman)
  4. Fega & Sural (Daughters of Eva & Axal Kalish)

Important Points in English

  1. Axal Kalish is Polish refugee who comes to America to earn livelihood for his family. It is the time of economic slumps of 1930 when every business was destroyed due to economic clash.
  2. He sets shop of crockery in the noncommercial area. He tries hard to run his business successfully but all in vain as his store or business is going down and down continuously with the passage of time. He takes all this on his heart and finally dies due to hear attack.
  3. After the death of Axal, Eva tries to run the store with the insurance money with determination with the hope to improve the store for better income for the purpose of removing poverty.
  4. She is self-respected, courageous, brave and hardworking woman, therefore she does not allow herself to beg from someone. However despite all of hardship of Eva, store does not progressed.
  5. Rosen is observing all this happening. He wants to help Eva in many ways as per following detail:-
    1. He tries to give an amount of 20$ through a cheque under fake address. He says that Axal had given him loan and this is the first installment of that loan. But Eva rejects the offer of Rosen.
    1. Rosen tries to give something to eat to her daughters and they eat the same. When Eva comes to know that she stops her daughter to take anything from Rosen. When Rosen tries second time the daughters refuse to take it by saying that our mother said today is fasting.
    1. Rosen says allow me to fix up this store but once again Eva rejects.
    1. Rosen offers leave this place and shift to my house in the city which will not have rent and find job instead wasting time at store for no use. He will manages maid for her daughters. Eva rejects.
    1. Rosen proposes her for marriage but again refused by the Eva. Rosen says that if she does not like me then she can marry a person of her own choice.
    1. At last Rosen calls his lawyer and prepares a will according to which all the properties, wealth and everything will be given to Eva after his death. He attempts suicides but fortunately saved. When Eva comes to know about this incident and goes to the house of Rosen and this time Rosen behaves her very rudely. He abuses her and slam window down.     

Summary in Urdu

:مختصر تعارف

اس کہانی میں پولیںڈک رہنے والی ایک خاتون کی پر عزم اور بہادرانہ جدو جہد کو بیان کیا گیا ہے۔ اس عورت کا نام ایوا تھا۔ جو اپنے خاوند کی وفات کے بعد خیرات کی شکل میں ہر قسم کی مدد لینے سے انکار کر دیتی ہے۔ ایواپولینڈ کی مہاجر ہے اور امریکہ میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ وہ دنیا میں تنہا ہے کیونکہ اس تمام رشتے داروں کا ہٹلر نے اغوا کر لیا تھا۔ وہ ایک پروقار اور خوددار عورت ہے۔ وہ اپنی عزت نفس کو مشکل حالات میں بھی بر قرار رکھتی ہے۔ کہانی انسانی کوشش، جرات اور عزم پر روشنی ڈالتی ہے۔

:کالش کا انجام

کہانی کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایوا ایک پرعزم عورت ہے۔ زندگی میں اس کا رویہ پروقار اور شاندار ہے۔ وہ مشکل حالات میں حوصلہ نہیں ہارتی۔ اس کا خاوند ایکسل کالش پولینڈ کا ایک مہاجر تھا۔ وہ ایک تاجرتھا۔ جب اس نے امریکہ میں پناہ لی تو اس نے ایک اندھے گھوڑے کی طرح کام کیا۔ وہ بہت محنتی انسان تھا۔ اس کے ایک دوست روزن نے اسے ایک کمپنی سے قرض لے کر دیا تھا۔ روزن کافی بیچنے والوں کا سیلز مین تھا۔ کالش کی بیوی کا نام ایوا تھا۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ ایک کا نام فیگا اور دوسری کا نام سوریل تھا۔ محنت کے باوجود اس کا کاروبار ترقی نہ کر سکا سخت محنت نے اس کی صحت پر برا اثر چھوڑا اور وہ مر گیا۔

:خاوند کی وفات کے بعد ایوا کے زندگی

اپنے خواند کی وفات کے بعد ایوا اپنی دو بچیوں کے ساتھ دنیا میں تنہا رہ گئی۔ اس کا خاوند ایک ہزار ڈالر کا بیمہ چھوڑ کر مرا تھا۔ روزن نے ایوا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ چلی جائے۔ اسکے قرض خواہ خود ہی اس سٹور پر قبضہ کر لیں گے۔ جو اس کا خاوند چھوڑ کر مرا تھا۔ اس نے وہاں جانے سے انکار کر دیااور سی جگہ رہنے لگی۔ اس نے روزن کو بتایا کہ وہ نیا مال خرید کر سٹور چلائے گی اور اپنی قسمت آزمائے گی۔ روزن نے اسے مزید نصیحت کی کہ وہ کسی سے شادی کر لے کیونکہ وہ خوبصورت اور جوان ہے۔ اس نے شادی سے انکار کر دیا اور روزن کو بتایا کہ اس نے ساری زندگی میں پریشانیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھااور اسے زندگی میں بہتر اور اچھی چیز کی کوئی توقع نہیں۔ اس نے کاروبار کو دوبار شروع کیا اور اس کے لئے بہت محنت کی لیکن اس کا کاروبار بری طرح ناکام ہوا یوں ایک ہزار ڈالر برباد ہو گئے۔

:روزن کی مزید پیشکش

روزن نے ایک دفعہ پھر اسے نصیحت کی کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ دے اور کوئی نوکری کر لے۔ ۔ اس نے اسے یقین دلایا کہ وہ اس کی بیٹیوں کا دیکھ بھال کرے گا لیکن ایوا نے اس کی نصیحت پر کان نہ دھرے۔ ایک دفعہ وہ اس کی بچیوں کے لئے عمدہ گوشت لے کر آیا لیکن ایوا کو یہ بات پسند نہ آئی۔ روزن نے اسے شادی کا پیغام دیا۔پیغام دینے والے نے ایوا کو بتایا کہ روزن ایک بیمار آدمی ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کے لئے اور اسکی بچیوں کے لئے کافی رقم چھوڑ کر مرے گا۔ ایوا نے اس کی پیشکش ٹھکرا دی اورکہا میں پہلے ہی بیمار آدمی کے ساتھ زندگی گزار چکی ہوں۔

روزن نے اس کے خاوند کے دوست کے نام سے اسے بیس ڈالر کی رقم چیک کے ذریعے دی لیکن ایوانے بر مانا اور رقم واپس کر دی۔ اس نے ایک وصیت نامہ تیار کیا۔ جس میں اس نے اپنی جائیداد ایوا کے نام لکھ دی۔ ایوا نے ایک دفعہ پھر مدد لینے سے انکار کر دیا۔ کہانی کا اختتام نہایت ہی ڈرامائی ہے۔ ایوا اس کے مکان کی کھڑکی کے باہر کھڑی ہے۔ شاید اب اسے اس کی مدد کی ضرورت ہے لیکن روزن نے اسے گالیاں دیں اور اسے ملنے سے انکار کر دیا۔

Important Questions

  • A criticism on modern urban life, discuss?
    1. People are very busy.
    2. They enjoy luxury of life but found worried all the time.
    3. Pollution problems in the urban life.
    4. People are not happy despite having all the things.
  • Story tells the purity of living, discuss?
    1. A simple family.
    2. Having simple food.
    3. Simple cloths.
    4. They are free from affectation.
    5. Way of breakfast is simplified.
    6. Passing polluted free life.
    7. Purity of nature.
  • Message of the story.
  • What were the reasons which makes author happy.
  • Simplicity is key contented.

HAPPY PRINCE (OSCAR WILD)

Characters:

  1. Happy Prince (He is Prince who lives luxury life)
  2. Swallow (A migrated bird which becomes friend of Happy Prince)
  3. Reed (An aquatic Bird)

Important Points

  1. It is story of Prince who lives in a palace of England. The sorrows are not allowed in the palace. The name of the palace is Sans Suci (Meant by Palace with now sorrow and grief)
  2. After the death of Prince he was converted into a statue and was fixed at high place in a city
  3. Statue was decorated with gold, ruby and precious pearls. All the people appreciated the beauty of statue.
  4. On night swallow stayed in the feet of statue.
  5. He found statue of the prince weeping. The swallow flew near to the eyes of statue and asked about the reason to weep.
  6. Statue replied that when he was a prince and lived in the palace, he was totally unaware from the miseries, sorrows of the common people.
  7. The statute requested the swallow to becomes his messenger and distribute all his precious pearls, gold and rubies among the poor people. Prince requested to swallow to stay at least one night and day.
  8. Gradually people become happier but outwardly the statue grew uglier.
  9. The weather became harsher that resulted the death of swallow therefore swallow dies, the laden heart of the prince broke.
  10. The swallow was thrown onto the heap of garbage. Statue of prince was sent to foundry for melting. All statue of the prince was melted however his heart still saved. 
  11. On God’s command, the angel of mercy brought the broken heart and also the dead swallow. God appreciated the choice of the angel.  

Summary in Urdu

:مختصر تعارف

کہانی کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے ایک دفعہ ایک شہزادہ کسی ملک کا حکمران تھااور اسے اپنے ملک کے لوگوں کی پریشانیوں اور مصائب کا علم نہیں تھا۔ اس نے نہایت ہی خوبصورت اور خوشگوار زندگی بسر کی۔ اسے زندگی میں کسی تلخی کا ذائقہ محسوس کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ اس کو ہر وقت کھیلنے، گانے اور رقص کرنے کے علاوہ کوئی اور کام نہ تھا۔ اسے غریبوں کی مشکلات اور مصائب کا علم نہیں تھا۔ شہزادے کے درباری اسے خوش وخرم شہزادہ کہا کرتے تھے۔ شہزادے کی موت کے بعد اسکا مجسمہ ایک اونچے مینار پر لگا دیا گیا۔ مجسمہ سونے کا بنا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں نیلم کی تھیں اور اس کے تلوار کے دستے پر ایک لعل چمکتا تھا۔

:ابابیل کی خدمات

ایک خوبصورت ابابیل شہر سے اڑ کر پرنس کے قدموں میں آکر بیٹھ گیا تاکہ وہ سردی اور دھند سے بچا رہے۔ جب وہ سویاتوآنسووں کے قطرے اس کے جسم پر گرے۔ اس نے اوپر نظراٹھا کر دیکھا۔ اسے معلوم ہوا کہ آنسو مجسمے کی آنکھوں سے گر رہے تھے۔ ننھے ابابیل نے اس سے کافی ہمدردی محسوس کی۔ اس نے شہزادے کے مجسمے سے اس کی افسردگی اور غم کا راز پوچھا۔ مجسمے نے اس بتایا کہ اس لوگوں کی پریشانیوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتاہے۔ کیونکہ اپنی زندگی میں وہ لوگوں کے دکھ درد نہ بانٹ سکا۔

شہزادے کے مجسمے نے ابابیل سے کہا کہ اس تلوار کے دستے سے وہ لعل اٹھائے اور ایک غریب درزن کو دے آئے۔ جو بہت غریب تھی اور اسکا بیٹا بیمار تھا۔ ابابیل نے وہ کچھ کیا جو سے کیا گیا تھا۔ اگلے دن شہزادے کے مجسمے نے ابابیل سے کہا کہ وہ ایک غریب لڑکے کے پاس جائے جو ڈرامہ لکھ رہا تھا اور اسے نیلم دےآئے۔ ابابیل نے نیلم لڑکے کےپاوں میں گرا دیے۔ اگلے دن ابابیل نے ایک ماچس فروش لڑکی مدد کی۔ جو غریب اور بھوکی تھی۔ اس نے پاس پہننے کے لئے جوتے نہیں تھے۔ اس کا سر ننگا تھا۔ ابابیل زن سے لڑکی کے پاس گیا اور اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پر موتیوں اور جوہرات کو رکھ دیا۔

شہزادے کےدرخواست پرابابیل شہر کے تاریک گاوں میں اڑا۔ اسے ہر طرف پریشانی، مصائب اور دکھ نظر آئے۔ پرندے نے ہمددردی کے ساتھ لوگوں کے ٹھنڈے اور افلاس زدہ چہرے دیکھے۔ اس نے واپس آکر شہزادے کو سب کچھ بتایا۔ شہزادے نے ابابیل سے کہا کہ وہ اس کے جسم سے سونے کے پتھروں کو ایک ایک کرکہ اتارے اور غریب لوگوں میں بانٹ دے۔ ابابیل نے شہزادے کی درخواست پر غریب لوگوں کو پریشانیوں کو دور کیا اور اس طرح وہ بہت خوش ہوا شہزادہ بھی غریب لوگوں کی مدد کرکہ بہت خوش ہوا۔

کہانی کا سبق:

مصنف واضح کرتا ہے کہ انسانیت کی خدمت نے شہزادے کے مجسمے کو اندورنی حسن سے مالا مال کیا۔ اگرچہ اس کا ظاہری حسن ختم ہو گیا تھا۔ ابابیل نے بھی انسانیت کی کافی خدمت کی۔ اس نے شہزادے کے پاس رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ انسانیت کی خدمت ان کے لئے اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کا باعث بنی۔ “جنت کے باغ میں یہ چھوٹا سا پرندہ ہمیشہ گائے گا اور میرے سونے کے شہر میں ہیپی پرنس میری تعریف کرے گا۔  

Important Questions

  • Discuss the story as fairy tale
    1. A story that is invented by the writer to convey to some moral message. The story was written by the Oscar Wild for his children to motivate them.
  • Discuss the story as fantasy?
    1. Story that is away from the reality of life and is built on imagination.
    2. But Oscar blended realities Victorian age.
  • Story is a satire (Criticism) on the Victorian age, how?
    1. Satire is referred to criticism but with positive attitude. End of satire is to improve the performance of people in a society.
    2. Victorian age was full of social evils such as exploitation, hypocrisy, differences between high ups and poor one and flattery.
  • Story is full of many ironic situation:-
    1. Human cannot help the people but statute can.
    2. Sorrows in the life are so many. Even statue and stone can weep due to sorrow of the common man.
    3. Statue introduces himself as the Happy Prince before swallow.
    4. Swallow asked him why he is weeping.
  • Message of the story, Happy Prince?
    1. People (Statue and bird) who serves humanity. They are very close to Allah.
    2. Outer beauty is nothing in this world. The real beauty is the beauty of the soul.  

ARABY (JAMES JOYCE)

Characters:

  1. A Boy (Teenager who shows his immature feelings of love / Hero of the Story)
  2. Mangan (Friend of Hero)
  3. Mangan’s Sister (Lover of Boy / Hero of the Story)

Important Points of story

  1. A boy falls in love with a girl. However, girl is totally unaware of his feelings of love.
  2. The boy is unable to express his feelings of love before that girl.
  3. He always thinks about that girl.
  4. He does not take interest in his study.
  5. Every morning when girl goes to school, he chases her and on the point where their ways divert, he goes forward and looks her face.
  6. When he is alone, he remembers that girl. He presses his palms together so forcefully that the palms start trembling. He murmurs and says O my love, o my love many a times.
  7. At night he goes on watching Mangan’s sister and his love.
  8. One day girl speaks to him and asks him that would you go to Araby Bazar. Boys accepts the offer readily. He promised that he would buy a gift for her from bazar.
  9. Boy says to girls to with him however she refuses by saying that she has to perform other tasks.
  10. The boy builds his whole story on the gift the he is going to purchase on Saturday.
  11. He waited impatiently for Saturday.
  12. On Saturday, his uncle gives him little money. He goes to bazar in the evening but he was unable to purchase anything because of little money.
  13. Meanwhile shops start to shut down and standing in the darkness, he gets the real value of life.  

Summary in Urdu

:مختصر تعارف

اس کہانی میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایک پندرہ سال کا لڑکا ایک خالی اور خاموش گلی میں اپنے چچا کے ساتھ رہتا ہے۔  وہ گلی میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتا رہتا ہے۔ اس کے ساتھی کھلاڑیوں میں سے ایک کا میگن ہے۔ وہ لڑکا اس کھلاڑی کی بہن سے محبت کرنے لگ جاتاہے۔ وہ اس کے حسن سے بہت محسور ہوتا ہے۔ وہ ایک بزدل لڑکاہے۔ اس میں قوت ارادی کی کمی ہے۔ اس کے پاس لڑکی سے محبت کرنے کی جرات نہیں ہے۔ اس کا ذہن شکوک اور واہموں کا شکار ہے۔

:لڑکے کی محبت

شروع سے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا ذہن متزلزل ہے۔ وہ لڑکی کو چوری چھپے دیکھتا ہے۔ وہ اس لڑکی سے اپنی محبت کا اظہار کے لیے کئی خفیہ اور چپھے ہوئے طریقے استعمال کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ لڑکی کا سکول تک پیچھاکرتاہے۔ جب وہ اسے دیکھنے کی پوزیشن میں ہوتی ہے وہ واپس آجاتا ہے۔ ایک دفعہ وہ اپنے گھر کے جنگلے پر کھڑا اس کی خمدارگردن کو دیکھتا اور اس کے ہاتھوں کو تصورات میں دیکھتا ہے۔

:ردعمل

وہ لڑکا بہت جذباتی ہے۔ وہ اس لڑکی کو شدت چاہتا ہے۔ ایک دن وہ جرات سے کام لے کر اس لڑکی کے روبرو کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہاں پر پھر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ اس کا ذہن متزلزل ہو جاتا ہے۔ اب لڑکی اس سے مخاطب ہوتی ہے۔ وہ اس سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اسے سیر کرانے کے لئے ایرابی لے جائے جہ کہ شہر کا شاندار بازار ہے۔ اسے یاد نہیں پڑتا کہ اس نے لڑکی سے کیا بات کی۔ وہ اس سے ایرابی جانے کا وعدہ کر لیتا ہے اور اس کے لئے کچھ تحفے کا بھی وعدہ کرتا ہے۔

:ایرابی جانے کا وعدہ

وہ ہفتے کے روز ایرابی جانے کا ارادہ کرتا ہے۔اس کے انکل اس کو کچھ پیسے دیتے ہیں جو کہ نا کافی ہوتے ہیں۔ یہ اب اس کی زندگی کا مقصد بی گیا ہے کہ وہ وہاں جائے۔ وہ اپنی محبوبہ کو تحفہ دے کر خوش کرنا چاہتا ہے۔ اس طریقے سے وہ اپنی جنسی خواہش کی آسودگی بھی کرنا چاہتاہے۔ سارا دن وہ بازار جانے کے تصور میں گم رہتا ہے۔ رات کو وہ بازار جاتا ہے۔ جب وہ بازار میں داخل ہوتا ہے تو بہت سارے سٹال بند ہو چکے ہوتے ہیں۔ وہ ایک سٹال پر جاتا ہے اور چینی کے برتن اور پھولوں سے مرصع چائے کے برتن دیھکتا ہے۔ لیکن وہ پہلے والی بزدلی اور قوت ارادی کی کمی کا شکار ہے۔ سٹال پر کھڑی خاتون اس سے پوچھتی ہے کہ کیا وہ کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے۔ اب بھی وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ وہ جوات دیتا ہے کہ نہیں۔ اس کہانی میں بار بار اس کے ذہن کے اندورنی تضادات اور شکوک کو واضح کیا گیا۔ کہانی کا اختتام نہایت شاندار ہے۔ بتیاں بجھ چکی ہیں اور بازار میں تاریکی چھا جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی فانی اور یاس سے بھر پور ہے۔ لڑکے کی لڑکی سے محبت نا مکمل رہتی ہے اس کی آنکھیں اپنی اس بے بسے پر جلے لگتی ہیں۔

Important Questions

  1. Discuss the story of love, Araby?
    1. Immature feelings of love.
    2. Boy is running after illusions of life.
    3. Boy is living life of dreams.
    4. Face reality is a bitter experience.

THE TELL TALE HEART (EDGAR ALLAN POL)

Characters:

  1. The Narrator (Who tells the Story/killer)
  2. The Old Man (Having devilish Eye/to be killed)

Important Points in English:

  1. The narrator is a good friend of old man. He likes him but he does not like his one eye because it resemble that of vulture eye.
  2. One day he decided to kill the old man in order to get rid of this vulture eye (Nazi Solution)                                   
  3. He entered in the old man’s chamber for seven days and nights consecutively but could not kill him as he found devilish eye always closed.
  4. On the eight night, he found the eye opened so he lost his temperament and killed the old man by putting bed over him and suffocated to death. He converted his body of the old man into pieces and packed into a small box. He hides that box under the floor of his room.
  5. Three policemen arrives at 4:00 AM for investigation as some of the neighbour complaint to police about ongoing something wrong in the chamber of old man.
  6. Narrator was very happy that he made policemen fool due to his confidence talk with them.
  7. However suddenly narrator starts to hear heartbeat coming out from the body of old man. The heartbeat gets louder and louder with the passage of time.
  8. The narrator gets confused and he is not able to control himself. Finally, he confessed his criminal act before the police. He tells the police about the reason of killing old man.   

Summary in Urdu

:قتل کا محرک

کہانی بہت سادہ سی ہے۔ یہ ایک ایک قتل کی کہانی ہے۔ کہانی کو بیان کرنے والا خود ہی قاتل ہے۔ وہ ایک بوڑھے آدمی کو اس طریقے سے قتل کرتا ہے جو نہایت ہی خوفناک ہےوہ بوڑھے آدمی کو بڑے عجیب طریقے سے قتل کرتاہے۔ وہ اس بوڑھے آدمی سے محبت کرتا ہے اس بوڑھے آدمی نے اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی۔ البتہ وہ اس کی ایک آنکھ سے بہت زیادہ رنجیدہ نظر آتا ہے۔ جو گدھ کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ جب کبھی وہ اس دیکھتا ہے تو اس کا خون ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ وہ اس بورھے آدمی سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔ وہ سے قتل کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ وہ اسے قتل کرے کے ارادے سے اس کے سونے والے کمرے میں جاتا ہے۔ کمرے میں مکمل اندھیرا ہے۔ لیمپ کی مدھم روشنی میں وہ دیکھتا کہ اس کی قابل نفرت آنکھ بند ہے۔ وہ بوڑھے آدمی سے تنگ نہیں ہے بلکہ اس کی اس بڑی آنکھ سے تنگ ہےجواسے ستاتی ہے۔ وہ اس کے سونے والے کمرے میں سات راتوں تک چکر لگاتا ہے لیکن وہ اس کو قتل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ وہ بوڑھے کی آنکھ کو بند پاتا ہے۔

:ارتکارب قتل

آٹھویں رات کو وہ بڑی احتیاط سے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ بوڑھا آدمی اپنے بستر سے اچھلتا ہے اور چلاتا ہے۔ کمرے میں کون ہے۔ قاتل خاموش رہتا ہے وہ بوڑھے آدمی کو کراہتے ہوئے سنتا ہے۔ یہ موت کی سسکی اور چیخ و پکارہے۔ بوڑھے آدمی کو اس کا انتظار ہے۔ نوجوان قاتل لیمپ کی مدہم روشنی میں اس کی مکروہ آنکھ کو دیکھتا ہے۔ جو پوری طرح کھلی ہوئی ہے۔ وہ مشتعل ہو جاتا ہےوہ بوڑھے کو گھسیٹتے ہوئے فرش پر لے آتا ہےاور اس کے چہرے کو بست کی اشیاء سے ڈھانپ دیتا ہے۔ اس طرح سے وہ دم گھٹ کر مر جاتا ہے۔ بوڑھے کی لاش اس کے سامنے پڑی ہوئی ہے۔ وہ لاش کے ٹکرے کرتا ہے۔ اس کا سر کاٹتا ہے اور بعد ازاں بازووں کو علیحدہ کرتا ہے۔ وہ کمرے کے فرش میں تین تختوں کی مدد سے اس کے جسم کے مختلف اعضاء کو دفنا دیتا ہے۔

:احساس گناہ اور جرم کا اعتراف

اس لمحے پولیس کے لوگ آجاتے ہیں اور اس کے گھر میں داخل ہوتے ہیں وہ اسے بتاتا ہے کہ انہوں نے باہر گلی میں کسی کی چیخ کی آواز سنی تھی۔ قاتل پولیس والوں کو بتاتا ہے کہ اس نے خواب میں چیخ ماری تھی۔ پولیس والے وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور گپ شپ لگاتے ہیں قاتل وعجیب ذہنی کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ کمرے میں بے چینی سے ٹہلتا ہے۔ وہ بے سکون اور پریشانی کی حالت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ بوڑھے کی لاش سے دل دھڑکنے کی آواز آ رہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ آواز اونچی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے اور آخر کار یہ اپنا جرم قبول کر لیتا ہے۔   

Important Questions

  • It is a story of horror, discuss?
    1. Edgar Allan Pol is a horror story writer.
    2. Reason of killing old man.
    3. Way of murdering.
    4. Way of disposing of dad body of the Oldman.
    5. When and how he confessed his crime of killing old man.
  • Do you think that the killer is in sane (sensible) or insane (insensible/mad)?

Sane

  • Way of killing
    1. Be-fooling the police

            Insane

  • Why he is killing the old man.
  • Confessing his crime

THE NECKLACE (GUY DE MAUPASSANT)

Characters:

  1. Mr. Loisel (Clerks who works at Ministry of Education)
  2. Matilda (Wife of Mr. Loisel)
  3. Madam Forestier (She is friend of Matilda)

Important Points in English

  1. Matilda Loisel is a very beautiful girl.
  2. She has born in a poor family.
  3. She is dreamed girl.
  4. Being born in a family of clerks she has to marry a clerk.
  5. She is thinking about luxuries of life all the time.
  6. Her husband brings invitation card of ball (dancing party) which is going to be held at the house of Minister of Education.
  7. When she gets invitation card, she becomes sad and start weeping as she does not have good dress to wear on the event.
  8. Mr. Loisel gives him 400 Francs (he saved for buying a gun) to purchase a good costume. She was happy after purchasing the suit.
  9. However, she became once again sad and this time for not having jewelry. Her husband suggests that she can has fresh flowers but she does not agree with the proposal.
  10. After that Mr. Loisel recommends her to borrow something from her friend namely Mrs. Forestier.
  11. She goes to Mrs. Forestier and brings a nice necklace from her.
  12. After that they attends the party, she was looking gorgeous like a queen. Even minister of Education also wanted to dance to with her.
  13. After finishing the party, it came to know that necklace which was borrowed by Mrs. Forestier had been lost. They were very worried due to this great loss.
  14. They arranged an identical necklace in 36000 Francs and return the same to Mrs. Forestier.
  15. Mr. Loisel already have 18000 Francs and they borrowed / arranged the remaining.    
  16.  In order to live life, they fired the servant working in their house. They shift to a small house.
  17. Matilda Loisel has to perform all duties of house by herself.
  18. A period of 10 years was spent to return the loan.
  19. Matilda now looks ugly and old.
  20. Once a time, Matilda meets with Mrs. Forestier in the garden and tells her whole story about the necklace.
  21. Forestier is amazed and tells to Matilda that it was an artificial necklace. The worth of the necklace was no more than 500 Francs.

Summary of the Story in Urdu

کہانی واضح کرتی ہےکہ انسان اپنی قسمت کے سامنے بے بس ہے۔ قسمت کی دیوی اپنی مرضی سے خوشیاں تقسیم کرتی ہے۔ انسان اسکی مزاحمت نہیں کر سکتا۔ یہ کہانی ہمیں ایک مغرور اور نفس پرست عورت کے المیے سے روشناس کرواتی ہے۔ اس کہانی کو انسانی تصنع اور غرور کی کہانی بھی کہا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وعورتیں فطری طور پر مغرور اور نفس پرست ہوتی ہیں۔ وہ عممدہ اور امیرانہ زندگی بسر کرنا چالتی ہیں۔ وہ تخیلاتی ہوتی ہیں۔ وہ نفیس کپڑے پہن کر اپنے حسن کو دوبلا کرتی ہیں اور خوشبووں اور ہیرے جوہرات کی دلدادہ ہوتی ہیں۔ ان چیزوں کے لئے ان کی بے جا محبت ان کی زندگی مین بربادی اور مصیبت لاتی ہیں۔

مصنف نے ان باتوں کو اپنی کہانی نیکلس میں بیان کیا ہے۔ کہانی ہمیں میتھل ڈے کے المیے سے روشناس کراتی ہے۔ میتھل ڈے ایک مغرور اور نفس پرست خاتون ہے۔ میتھل ڈے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئی لیکن وہ امیرانہ زندگی بسر کرنا چاہتی ہے۔ وہ اپنی موجودہ زندگی سے مطممن نہیں ہے۔ وہ ایسی زندگی بسر کرنے کا تصور کرتی ہےجس میں نوکر اور ویٹرزاس کی خدمت کریں اور اس کے احکامات کی تعمیل کریں لیکن بد قسمتی سے اس کی شادی ایک کلرک سے ہو جاتی ہے۔ اس کا خواند محکمہ تعلیم میں نوکری کرتا ہے اور اپنے خاوند کے ساتھ خوش نہیں ہے۔ وہ خوشی مسرت اور عیش کی زندگی بسرکرنا چاہتی ہے۔ وہ پارٹیوں اور دعوتوں میں جانا چاہتی ہے تاکہ اپنے حسن اور امارت کا اظہار کر سکے اور لوگوں کو اس سے متاظر کر سکے۔ اس کا خواند اس کے لئے ایک دعوت نامہ لاتا ہے۔ جس میں اسے ایک رقص میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ رقص وزارت تعلیم کی زیرسرپرستی منعقد ہوتا ہے ور اس کارڈ کو وصول کرتے بہت خوش ہوتی ہے۔ لیکن جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ رقص میں شامل ہونے کے لیے اس کے پاس مناسب کپڑے نہیں ہیں تو وہ اس بات پر بہت افسردہ ہوتی ہے۔ اس کا خاوند اسے چار سو فرانک دینے پر راضی ہو جاتا ہے۔ جو اس نے ایک بندوق خریدنے کے لیے جمع کئے ہوتے ہیں۔ وہ اس رقم سے نہایت ہی اعلیٰ درجے کے کپڑے خریدتی ہے وہ رقص میں زیور کے بغیر نہیں جانا چاہتی۔ اس کا خاوند اسے مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنی دوست جس کا نام فوریسٹیر ہے کے پاس جاتی ہے اور اس سے اس کی مال ادھار مانگ لاتی ہے۔

رقص میں سب لوگ اسے حسن کا شہکار قرار دیتے ہیں ہر آنکھ اس پر لگی ہوئی ہے۔ ہر کوئی اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے حسن کی تعریف کرتا ہے۔ اس لمحے وہ بہت خوش دکھائی دیتی ہے اور اپنے اوپر فخر محسوس کرتی ہے۔ رقص کے خاتمے پر دونوں میاں بیوی عام سے طریقے سے گھر واپس آ جاتے ہیں۔ کپڑے بدلنے سے پہلے وہ اس ادھار کی مانگی ہوئی مالا پر ایل الودوائی فخریہ نظر ڈالنا چاہتی ہے لیکن اسے یہ جان کر بہت دکھ ہوتا ہےکہ مالا کہیں گم ہو گئی ہے۔ اس پر اسے بے حد صدمہ ہوتا ہے۔ اس کا خاوند مالا کو ہر جگہ ڈھونڈتا ہے لیکن اسے مالا نہیں ملتی۔ اب میڈیم فارسٹیر کا مالا واپس کرنے کے لئے کافی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں اسے کافی رقم ادھار لینا پڑتی ہے ۔ قرض واپس کرنے کے لئے دونوں میاں بیوی کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اسے نہایت ہی خستہ حالی میں زندہ رہنا پڑتا ہے۔ سخت محنت کی وجہ سے وہ اپے حسن سے محروم ہو جاتی ہے۔ اس کا المیہ بہت دردناک ہو جاتا ہےجب اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہ مالا 36000فرانک کی نہیں بلکہ صرف 500 فرانک کی تھی۔

کہانی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسی معمولی سا واقعہ اسے رنجیدہ اور خستہ حال بنا دیتا ہے۔ اگر اس عورت نے دعوت نامہ قبول نہ کیا ہوتا تہ آج حالات مختلف ہوتے۔  

Important Questions

  • Vanity is self-deception, discuss?
    1. She tries to cut her coat beyond her cloths.
    2. She wants to be prominent.
    3. She wants to show herself off.
    4. This artificial life casted her life. 
  • Character of Matilda.
  • Matilda life before and after necklace.
  • Life before Necklace
  1. Very beautiful lady.
    1. Passing a tension free life.
    2. No worries of life.
  • Life after Necklace
  1. She becomes uglier.
  2. She has to perform all duties of her house herself.
  3. She is having difficulties in the life.
  4. Time of ten years was spent to return the loan

THE DUCHESS & THE JEWELER
(VIRGINIA WOLF)

Characters:

  1. Oliver (Jeweler / Tycoon in England)
  2. Duchess (Duchess of Lambourne)
  3. Diana (Daughter of Duchess and love of Oliver)

Important Points of Story in English

  1. Oliver Bacon is famous jeweler / businessman in England.
  2. Now he has everything but his lust for wealth not coming to end     
  3. He started his business by selling stolen dogs of rich ladies.
  4. Then he had a counter business and started selling cheap watches.
  5. Then he got some precious pearls and expanded his business.
  6. One day Duchess of Lambourne comes to meet.
  7. She wants to sell fake pearls for twenty thousand pounds.
  8. He kept her waiting outside the office for 10 minutes.
  9. He is doing nothing in the office but smiling and drinking alcohol just to have fun of Duchess.
  10. He was happy that how he made Duchess waiting outside for 10 minutes.
  11. She abuses her husband, she wanted to sell fake pearls for 20000/- pounds.
  12. Then Oliver wanted to check the geniuses of the pearl. However, Duchess very cleverly entangled the Oliver.
  13.  She entangled him by saying that there is party in our house wherein the Prime Minister will attend and my daughter namely Diana would will also attend.
  14. Despite of this Oliver has doubt about the realness of the pearls. Meanwhile Duchess said that his daughter Diana would spend weekend with you in the forest alone. Oliver signed the cheque of twenty pounds as he was happy that Diana would spend weekend with him.

Summary in Urdu

:مختصر تعارف

یہ کہانی نہایت ہی دلچسپ انداز میں شروع ہوتی ہے۔ الیوربیکن ایک مشہور جوہری تھا جو جیولری کا کاروبار کرتا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا آغازنہایت ہی معمولی کاروبار سے شروع کیا۔ اس نے اپنا بچپن لندن کے تاریک علاقے کی تاریک گلی میں گزارا۔ لڑکپن میں وہ کتوں کو چوری کر کہ امیر اور فیشن ایبل خواتین کے ہاتھوں بیچتا تھا۔ کسی سودے میں اس کے ہاتھ چند قیمتی جوہرات لگ گئے ان کے بیچنے سے اس کے پاس دولت آگئی۔ اپنی چالاکی اور بے ایمانی سے وہ تجارت میں کافی ترقی کر گیا۔

اس نے گریک پار میں ای جدید طرز کا فلیٹ خریدا اور ایک امیر آدمی کی حثیت سے رہنے لگا۔ جلد ہی وہ لندن کا سب سے بڑاجوہری بن گیا اور شاید ساری دنیا کا۔ لیکن وہ اپنے کاروبار سے مطممن نہ تھا۔ وہ اس سے بھی بڑا کاروبار کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنا ماضی فراموش نہیں کیا تھا۔ وہ ایک لڑکی ڈیانا سے محبت کرتا تھا۔ جوڈچیز آف لیمبورن کی بیٹی تھی۔ وہ اپنی محبت میں کامیاب نہیں تھا وہ اپنی محبت کی ناکامی پر سسکیاں بھرتا۔ کہ وہ اپنی دوکان کے پچھلے حصے میں بیٹھا تھا جب اسے ڈچیز آف لیمبورن کے آنے کی اطلاع ملی وہ اسے ملنا چاہتا تھی۔ اس نے بیکن کو بتایا کہ وہ اس کے پاس جوہرات بیچنے کے لئے آئی ہے۔ اس نے جوہری کو بتایا کہ آج کل اس کا ہاتھ تنگ ہے۔ اس لئے اسے پیسوں کی ضرورت ہے۔ اس نے ان ہیروں کا بیس ہزار پونڈ معاوضہ مانگا۔ بیکن ان ہیروں کا معائنہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ انہیں اپنے اسسٹنٹ کے پاس بھیجنا چاہتاتھا۔ لیکن ڈچیز نے اس اپنی باتوں میں لگا لیا۔ وہ اس کے ساتھ نہایت محبت سے گفتگو کرنے لگی۔

اس نے دعوت دی کہ اس ہفتے کے اختتام پر اس کے گھر آئے۔ وہ ایک چالاک عورت تھی۔ اس اس بات کا علم تھا کہ جوہری اس کی بیٹی ڈیانا سے محبت کرتا تھا۔ اس نے ڈیانا کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ اس نے بیکن کا بتایا کہ پارٹی میں وزیراعظم۔ شہزدا اور ڈیانا شرکت کریں گے۔ بیکن کو ڈیانا سے خوب محبت تھی۔ ڈیانا سے ملاقات کے تصور میں اس کے ذہن میں ہلچل مچا دی۔ ڈچیز نے مزید یہ کہا کہ ڈیانا اس کے ساتھ ہفتے کے اختتام پر اکیلے جنگل میں وقت گزارے گی۔ ان باتوں میں آکر جوہری نے ہیروں کے معائنہ کا ارادا ترک کر دیا اور بیس ہزار پونڈ کا چیک ڈچیز کو دے دیا۔

اس کے جانے کے بعد جوہری نے ان جوہرات کو زیادہ بہتر روشنی میں دیکھا اور اسے معلوم ہوا کہ یہ ہیرے اصلی نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ایسا دھوکہ دوسری دفعہ ہوا تھا۔ مصنفہ یہ بات واضح کرنا چاہتی ہے کہ جذبات کی رو میں بیٹھ کر انسان سخت غلطیاں کرتا ہے جیسا کہ اس جوہری نے فاش غلطی کی اور بیس ہزار پونڈ سے محروم ہو گیا۔  

Important Questions

  1. The Duchess and the jeweler shows the moral decadence, discuss?
    1. This story projects the true picture of English Society.
    2. Oliver lifestyle and way of starting of his business.
    3. Steeling dog and selling them to rich ladies.
    4. Starts selling cheap watches.
    5. Meeting with Duchess.
    6. Kept her waiting outside.
    7. She wants to sell fake pearls
    8. She abuses her husband.
    9. Duchess uses her daughter to sell pearls for 20,000 pounds.   

THE SHADOW IN THE ROSE GARDEN
(D.H LAWRENCE)

Characters:

  1. Husband (An Engineer in the Mine)
  2. Wife (She loves Archie (Military Man) but could not married to him)
  3. Archie (Military Officers who got mad)

Important Points in English

  1. It is story of a woman who could not marry the person she loved and could not love the person she married.
  2. Archie was a military officer whom she loved and wanted to marry. He went to Africa to fight a war. He was reported to dead due to sunstroke.
  3. On that day she marries the engineer. He was a healthy person but lower in status.
  4. Husband tried his best to attract his wife but of no use.
  5. They went to celebrate honeymoon after three years of the marriage on the sea-side. It was the same place where she lived before her marriage.
  6. Husband asked his wife to go out for a picnic. However, wife rejects the offer pretended to say that he is busy at home due to work, therefore, she could not go with you.
  7. After that she secretly goes to toe Rose Garden to revive her past.
  8. She was stopped to the Garden as it was not a public place. However, she did manage in the Rose Garden somehow.
  9. She was watching very well arranged flowers in the garden and suddenly she saw a shadow coming to her.
  10. She was very surprised to see that the shadow was of Archie. She recognized that was Archie whom she loved. However, Archie had gone mad therefore she didn’t recognize the woman.
  11. She goes to his chamber and told all the story to his husband.
  12. Her husband got to know the reason that why his wife is not happy with him.
  13. He taken hat and went outside.

Summary of the Story in Urdu

:مختصر تعارف

اس کہانی میں ہمیں ایک جوان عورت کے متعلق بتایا گیا ہے۔ جو نظریہ ضرورت کے تحت ایک انجنئیر سے شادی کرتی ہے۔ شادی سے پہلے وہ ایک فوجی سے محبت کرتی تھی۔ شادی کے وقت اس کے خاوند کو اپنی بیوی کی محبت کا علم نہ تھا۔ جب اسے اس بات کا علم ہوتا ہے تووہ غضبناک ہوجاتا ہے۔ اس کی بیوی اس سے پہلے ہی نفرت کرتے تھی وہ بھی اپنی بیوی سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔ لیکن جلد ہی عقل ان پر غالب آجاتی ہے اور وہ اپنی جذباتیت کو چھوڑ دیتے ہیں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہتر طریقے سے رہنے لگ جاتے ہیں۔

ہمیں کہانی سے پتہ چلتا کہ یہ شادی شدہ جوڑا سمندر کے کنارے واقع ایک شہر کی سیر کے لئے آیا ہے۔ جوان عورت پہلے بھی اس شہر میں آچکی ہےیہ وہ جگہ ہے یہاں پر وہ اس فوجی سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے آچکی ہے۔ وہ فوجی سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے آچکی تھی۔ وہ فوجی آرمی میں لفٹیننٹ کے عہدے پر فائز ہے۔ وہ ایک امیر آدمی ہے اور نہایت ہی اعلی بنگلے میں رہتا ہے۔ اس بنگلے میں گلاب کے پودوں کا ایک باغ ہے اور وہ پادری کا بیٹا ہے۔ عورت اورفوجی دونوں ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے ہیں ان دونوں نے زندگی میں جیون ساتھی بننے کا فیصلہ کیا ہوا ہے لیکن شادی نہیں ہو پاتی۔ نوجوان فوجی افریقہ میں جنگ لڑنے کے لئے چلا جاتا ہے۔ اس عورت کو کسی نے غلط اطلاع دی کہ اس کا عاشق جنگ میں مارا جا چکا ہے۔ وہ ایک بجلی کا کام کرنے والے سے شادی کر لیتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اچھی زندگی بسر نہیں کر سکتی۔ وہ خوبصورت ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھتی ہے۔ اسکا خاوند کثر شکایت کرتا ہے کہ وہ اس پر توجہ نہیں دیتی۔

نوجوان عورت اس باغ کی سیر کرنا چاہتی ہے۔ یہاں پر اس کی محبت دفن ہے۔ اسے اس جگہ سے بہت پیار ہے۔ وہ ماضی کی یادوں کو زندہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ اپنے خاوند سے بہانہ کرتی ہے اس بہت سارے دیگر معاملات کو سلجھانا ہے ۔ اس کو خاود تھوڑی دیر کے لئے اسے تنہا چھوردیتا ہے اور وہ باغ میں آجاتی ہے۔ باغ میں وہ سفید گلاب کے پودوں کے قریب ایک سیٹ پر بیٹھ جاتی ہے۔ اس وقت ایک آدمی اس کی طرف آتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ اسے گھورتا ہے اور اس کے قریب بیٹھ جاتا ہے۔ یہ وہ فوجی آدمی ہے جس سے وہ کسی زمانے میں محبت کرتے تھی۔ وہ حیرانگی سے اسے گھورتا ہے وہ اس پہچاننے میں ناکام رہ جاتا ہے۔ اس اس بات پر صدمہ ہوتا ہے وہ شاید پاگل ہو چکا ہے۔ اسے اپنا کوئی ہوش نہیں۔ وہ اسے پاگل دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوتی ہے اور کرب زدہ ہا جاتی ہے۔

وپ اپنے گھر واپس آجاتی ہے وہ بہت رنجیدہ اور نا خوش ہے۔ وہ اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیتی ہے۔ اس کا خاوند اس کی افسردگی کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے خاوند کے اصرار پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے اور اسے اپنی محبت کی تمام کہانی سنا دیتی ہے۔ اس کا خاوند جوش میں آجاتا ہے اور غضبناک ہو جاتا ہے۔ دونوں ہی اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنے کے بعد پر سکون دکھائی دیتے ہیں۔ یہ زہن کی غیر جذباتی اور غیر شخصی کیفیت کا نام ہے۔ وہ اب پہلے سے بہتر انداز میں ہرنے لگتے ہیں۔ باغ سائے سے مراد اس عاشق کا سایہ ہے جو باغ میں آتا ہے۔ نوجوان عورت کے ذہن پر مسلط رہتاہے۔

Important Questions

  • The theme of the custody.
    1. It is a story of unfulfilled love.
    2. First love is very difficult to forget.
    3. After marriage women and men can do nothing except compromising.
    4. Importance of shadow.

A CONVERSATION WITH MY FATHER
(GRACE PALEY)

Characters:

  1. Father (86 years old on death bed)
  2. Daughter (Narrator / Author)

Important Points in English:

  1. The daughter is narrator and an author herself in the story.
  2. She dislikes the stories written in a peculiar way beginning to end.
  3. Father is breathing his last. He asked her daughter to write a story like Chekov and Maupassant.
  4. Daughter writes a story to please her father.
  5. There was a middle aged woman.
  6. The son of the woman starts taking drugs. In order to accompany his son, the woman also starts to take drugs.
  7. The son gives up taking drugs but mother continuous to take drugs.
  8. Son is disgusted and leave his mother alone.
  9. The father dislikes the story as she has omitted certain details such as mother and son’s appearance.
  10. The father asks her to write another story. Therefore she writes another vision of the story.
  11. The mother is a beautiful woman having milk and vitamins for her son. The son is now a wise one. Who writes articles in his school in the magazine named “Golden Horse”. He meets a girl an fall in love with her. He starts to take drugs.
  12. They boy and the girl leave the mother. Mother reads Golden Horse and goes on weeping.
  13. The father also dislikes this story.
  14. At her father request she changes the ending.

Summary of the Story in English

کہانی مصنفہ اور اس کے باپ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے گرد گھومتی ہے۔ مصنفہ کا باپ چھیاسی سال کا ہے اور دل کا مریض ہ۔ وہ بہت کمزور ہے لیکن اس کے ذہن میں ہر دم نئے خیالات آتے رہتے ہیں۔ وہ موپساں اور چیخوف کو پسند کرتا ہے۔ دونوں مصنف بالترتیب فرانس اور روس کے رہنے والے ہیں۔ مصنف اپنے باپ کو کہانی سناتی ہے۔ جو اس نے خود لکھی ہے لیکن اس کے باپ کو یہ کہانی پسند نہیں۔  کہانی ایک لڑکے کے متعلق ہے۔ جو پندرہ سال کی عمر میں نشہ باز بن جاتا ہے۔ اس کی ماں بھی نشہ کرنے لگ جاتی ہے۔ تا کہ بیٹے کی قربت میں رہ سکے۔ کچھ دیر بعد لڑکا نشہ چھوڑ دیتا ہے اور شہر چھوڑ کے دوسری جگہ چلاجاتا ہے۔ اس کی ماں غمزدہ ہو جاتی ہے۔

مصنفہ اس کہانی کو دوبارہ لکھتی ہے۔ وہ اس کہانی میں ان تمام اخلاقی قدروں کا ذکر کرتی ہے جو اس کے باپ کو پسند ہیں۔ وہ کہانی میں اس عورت اور اس کے بیٹے کے بارے میں تمام تفصیلات دیتی ہےجو اس کے والد کو پسند ہیں۔ وہ اس کہانی میں استعارے، مشکل الفاظ اور حوالے استعمل کرتی ہے۔ جو اس کے باپ کو پسند ہے۔ وہ کہانی میں ایک لڑکی کا ذکر کرتی ہے جو اس لڑکے کا پسند کرتی ہے اور اسے ذہنی طور پر صحت مند انسان بنا دیتی ہے۔ لڑکا اپنی ماں کو تنہا چھوڑ دیتا ہے اور اس کی محبوبہ ماں کو ملنے سے اس وقت تک انکار کر دیتے ہیں جب تک وہ نشہ نہ چھوڑے۔ لیکن ماں اپنے آپ کو نہیں بدل پاتی وی اپنے بیٹے کی جدائی میں چلاتی رہتی ہے۔ مصنفہ کو بتاتا ہے کہ اس میں غیر ضروری تفصیلات کا ضرورت سے زیادہ ذکر کیا گیا ہے۔ وہ اس کے حس مزاح کی قدر کرتا ہے لیکن اسے بتانا چاہتا ہے کہ سادہ کہانی بیان کرنے کے فن سے محروم ہے۔

وہ مصنفہ کو بتاتا ہے کہ اس کی کہانی کو المناک ہونا چاہیے۔ زندگی المیوں سے بھر پور ہے ۔ مزید عورت کر کردار اچھا دکھایا جانا چاہیے۔ مصنفہ اپنے بوڑھے باپ کے خیالات سے متفق نہیں۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ عورت نسے کو چھوڑ کر ایک اچھی عورت بن سکتی ہے۔ وہ اس سماجی کارکن یا استادبن سکتی ہے اس کا باپ اسے نصیحت کرتا ہے کہ اسے صرف حقیقت سے چمٹے رہنا چاہیے۔ زندگی ایک المناک حقیقت کا نام ہے۔ زندگی میں بہتری کی طرف تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ مصنفہ اور اسکے باپ کے طرز فکر اختلاف کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مصنفہ کا باپ نئی نسل کے تقاضوں کا احساس نہیں کر سکتا۔ لیکن مصنفہ کسی حد تک اپنے باپ کے خیالات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے باپ کے رویے میں لچک نہیں۔ خیر کہانی میں پرانی اور نئی نسل کے رویوں کے اختلاف  کو نہایت دلچسپ اور جاندار انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

Important Questions:

  • They story is about generation gap, discuss?
    1. First version of the story told by daughter.
    2. Second version of the story told by daughter.
  • Discuss story “Conversation with my father” as Meta fiction?
    1. A fiction in the fiction is called Meta fiction.
    2. Life is not an end but a continuous struggle.

THE FLY (KATHRINE MANSFIELD)

Characters:

  1. Woodifield (A sick man who is passing retired life)
  2. The Boss (Owner of the office where Woddifield worked)

Important Points in English

  1. Woodifield is now passing now retired life.
  2. On Tuesday, he visits his ex-office to meet his boss as his wife and daughters allow him to go out only on Tuesday.
  3. The boss is happy to see him. He shows him new things in his office. Everything was new except the picture which is having uniform boy.
  4. There was a common thing between Woodifield and his boss that sons of them were died in the war held in Belgium six years ago.
  5. Woodifield says that he wanted to say him something but he could not remember that.
  6. They start drinking alcohol and during drinking he remembers that what he wanted to say to his boss.
  7. Woodifield says to his boss that recently her daughters visited Belgium and there she visited the graveyards where his son and son of the boss were buried. He added that both of the graves were being looked after properly.
  8. Due to this Boss became sad and he wants that Woodifield leave this office early.
  9. As soon as Woodifield goes out. Boss calls his watchman and says to him to leave him for half an hour alone.
  10. Boss is always found to weep whenever he remembers his son that was killed during a war at Belgium. He does not weep now however he becomes sad whenever he remembers his son.
  11. Suddenly he watches a fly falling in an inkpot.
  12. With his pen he gets the fly out of the pot and keeps it on the bloating paper.  
  13. Fly tries to clean its body and when she is near to fly, Boss again drops a drop of ink on the fly.
  14. Fly again tries to clean but boss once again throws drops of ink.
  15. The fly tries to remove but now fly motionless and finally fly dies.
  16. Boss calls his watchman and asks him to bring another bloating paper.   
  17. After that he wants remember but he could not.

کہانی کے مطالعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مسٹر وڈ فیلڈ ایک تجارتی فرم کا ریٹائرڈ ملازم ہے۔ وہ دیہات میں رہتا ہے۔ ہر منگل کو وہ شہر آتا ہے اور اپنے گہرے دوست کو ملتا ہے۔ اس کا گہرا دوست اسی تجارتی فرم کا باس ہے۔ مسٹر وڈ فیلڈ اپنے پاس کے کمرے کی تازہ ہوا اور سجاوٹ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔ وہ کمرے کی آرائش نو کی تعریف کرتا ہے۔ وہ اور اس کا باس کافی باتیں کرتے ہیں۔ اس کا باس اسے شراب پیش کرتا ہے شراب اس کی روح کو گرماتی ہے۔ گفتگو کے دوران مسٹر وڈ فیلڈ اپنے باس کو بتاتا ہے کہ اس کی بیٹاں پچھلے ہفتے بلجئیم گئی تھیں۔ وہاں پروہ اپنے بھائی کی قبر پر بھی گئیں۔ قبرستان میں اپنے باس کو چھوڑ کر آ جاتا ہے۔

یہ خبر اس کے باس پر بم کے دھماکے کی طرح گری۔ اس کا غم تازہ ہو جاتا ہے۔ اسے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ زمین کھل گئی ہےاور اس نے اپنے بیٹے کو قبر میں لیٹا ہوا دیکھ لیا ہے۔ وہ اب کمرے میں تنہا ہے۔ وہ رونا چاہتا ہے۔ لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اپنے بیٹے کی موت پر وہ بچوں کی طرح رویا تھا۔ وہ تمام لوگوں کو بتاتا ہے کہ وقت اسکے غم کو مندمل نہیں کر سکتا۔ اس کا بیٹا اس کی واحد اولاد ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ساتھ سے جدا ہو جاتا ہے۔ وہ جنگ میں مارا جاتا ہے۔ وقت نے اس کی امیدوں کے بر عکس اس کے غم کو مندمل کر دیا۔ لیکن اب اس کا زخم تازہ ہو جاتا ہے۔

اس لمحے ایک مکھی سیاہی کی دوات میں گر جاتی ہے۔ باس ایک قلم اٹھاتا ہے اور سیاہی سے مکھی کو نکال دیتا ہے۔ وہ مکھی سیاہی چوس پر رکھ دیتا ہے۔ مکھی دوبارہ اپنے پروں کو پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔ باس اس پر زیادہ سیاہی انڈیل دیتا ہے۔ مکھی بے حس ہو کر گر جاتی ہے اور مر جاتی ہے۔ باس پر سکون دکھائی دیتا ہے۔ قسمت نے اس کے بیٹے کو مارا ہے اور اس نے اب مکھی کو مار دیا۔ اس طرح وہ پر سکون دکھائی دیتا ہے۔

کہانی واضح کرتی ہے کہ باس کا رویہ دیوتاوں سے ملتا جلتا ہے۔ جو انسانوں کو اپنی خوشی کی خاطر قتل کرتے ہیں۔ کہانی کے تمام کردار بے رحم اور ظالم قسمت کے سامنے بے بس ہیں۔ مکھی بے بسی کی علامت ہے۔ کیتھرائن منسفیلدڈ خود بھی پنتیس سال کی عمر میں تپ دق سے مر جاتی ہے۔ موت سے جوئی خلاصی نہیں۔ ہر آدمی کو موت کی حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے۔

Important Questions:

  • Time is best healer, discuss with reference to short story “The Fly”.
    1. The beloved son of Boss and Woodifield were died during a war in Belgium six years ago.
    2. The grief of boss would never end. Former, when he remembers, he starts to weep but now tears of him end. But he feel burden of grief in his heart.
    3. On the other side Woodifield has accepted the reality of death of his son. He does not feels like his boss.

2.         What is the symbolic importance of the story of fly:-

  1. Fly tries to rub the ink off its body.
  2. It tries to face the difficult situation.
  3. Black colour of ink symbolic of sadness in the story.
  4. Difficulties/problems/sorrows of life should be faced with brave.
  5. Life is the name of continuous struggle.

A PASSION IN THE DESERT
(HONORE DE BALZAC)

Characters:

  1. A Military Man (Who was successful to run away from prison)
  2. She Panther (Becomes friend of Military Man)

Important Points in English:

  1. This story is called a military story as an animal story or a fantasy or a symbolic story.
    1. This story was written during the war time and consists on a military man therefore story can be referred to military story.
    2. One of the major character of the story is panther. It is hero of the story. Therefore story can also be read as animal story.
    3. Story is built on imagination and whenever a man loves animal in response animal loves also. However in the said story animal starts to love with man instantly without action by the military man. It is the reason story is known as fantasy.
    4. When someone loves other in response other also starts to love. Similarly when some hates other and other also starts to hate. But situation is different in the story. There was no reaction by the panther when the military man tries to kill.
  2. During the war in Egypt, a military man was got by the army. They take him into a camp located near to river Nile.
  3. The military man gets himself free from the ropes, takes a gun, some dates and ammunition.
  4. He starts to travel on the horse and reached in the foot of hills after travelling a long distance.
  5. The horse was exhausted and died.
  6. After the death of horse, man gets disappointed and thinks to finish his life. However he decided to wait till tomorrow.
  7. He found a cave and decided to take rest in it.
  8. During stay in the cave he heard a noise. He wants to fire but stops himself by thinking that what would happen if he misses the target. Therefore he decides to wait till the morning.
  9. In the morning, he saw a she panther besides him. It was so beautiful and the military man starts to like it.
  10. He touches the panther with love. The panther quakes his tail as a gesture of love.
  11. The military man needs the reason to live, so he starts to live with that panther.
  12. After some time, the military man decides to go now and one day he finds panther to sleep and he secretly runs from there.
  13. After sometime when panther wakes up, she does not find the military man and stars to search the man.
  14.  The military man was tumbling and sinking into the soft sand. He was shouting for help.
  15. Panther tries to save him while holding collar and remains successful to pull the man out of sand. 
  16. Once a time, panther and military man are playing and accidentally the leg of man catches in the big mouth of panther. The military man thinks that panther is going to eat him, he pulls knife and kills the panther. Panther remains inaction when the man is killing him.
  17. After that incident, man is disappointed. He thinks that he had killed a man not a panther.

Summary of the Story in Urdu:

:تعارف

کہانی سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فرانسیسی سپاہی ایک مہم کے دوران مصریوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ مصری اسے قید کر کے دریائے نیل کے پرے واقع صحرا میں لے گئے۔ انہوں نےاس کے ہاتھوں کو باندھ دیا ور سونے کے لئے رات کو چلے گئے۔ فرانسیسی سپاہی نے اپنے ہاتھ کی رسیوں کو کھولا اور بھاگ نکلا۔ اس نے ایک رائفل اور خنجر کو چھینا اور وہ رجمنٹ میں دوبارہ جانا چاہتا تھا۔ لیکن اس کا گھوڑا راستے میں ہی مر گیا اور وہ راستہ بھول گیا۔

خوش قسمتی سے وہ ایک پہاڑی پر پہنچ گیا۔ اس پہاڑی میں ایک غار تھی۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ وہ جلد سو گیا۔ رات کو اس نے غار میں کسی کو آتے محسوس کیا۔ خوف سے اس کا خون منجمند ہو گیا۔ چاند کی روشنی میں اس ے دیکھا کہ غار میں ایک شیرنی اس کے قریب ہی سو رہی تھی۔ پہلے اس نے شیرنی کو گولی مارکر ہلاک کرنے کا سوچا لیکن بعذازں اس نے یہ خیال ترک کر دیا۔ سپاہی نے دیکھا کہ شیرنی کے پنجے خون آلودہ ہیں۔ شیرنی نے اپنے سر کو سپاہی کی جانب ہلایا اوربغیر کوئی حرکت کئے اس کی طرف دیکھا۔ سپاہی اسکے قریب آیا اس نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔ اس نے اس بات کا برانہ منایا۔ وہ اس کے کانوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔ اس نے اس کے پیٹ کو چوما۔ شیرنی نی اس سپاہی کا جواب محبت میں دیا۔ اس نے پساہی کی التفات کا جواب بخوبی دیا۔ اس نے اس کے بوٹوں کو اپنی طاقتور زبان سے چاٹنا شروع کر دیا۔ سپاہی نے اپنی محبوبہ کے نام پر اس کا نام مینگونی رکھ دیا۔ سپاہی شیرنی کی موجودگی میں اپنی تکلیف بھول گیا۔ دونوں کے درمیان محبت بڑھتی گئی۔ اس طرح کئی دن گزر گے۔ آخر کار ایک غلط فہمی کی بناء پر ان کے درمیان محبت کا رشتہ ختم ہو گیا۔

سپاہی نے غار کے اوپر ایک بڑے پرندے کو ایک چمکندار روشن دان سے اڑتے دیکھا۔ وہ شیرنی کو چھوڑ کر پرندے کے پچھے بھاگا۔ شیرنی نے محسوس کیا اس نے سپاہی کی ٹانگ کو اپنے تیز دانتوں سے کاٹا۔ سپاہی اس بات پر غضبناک ہو گیا اور شیرنی کے گلے میں خنجر اتار دیا۔ اس نے خوفناک چیخ ماور اور کچھ دیر بعد مر گئی۔ وہ ساری زندگی اسے فاراموش نہ کر سکا اس کہانی کا مصنف بیان کرتا کہے کہ محبت کے معاملے میں غلط فہمی المیے کو جنم دیتی ہے۔

Important Questions:

  1. Discuss short story “A passion in the desert” as fantasy?
    1. Fantasy is built on imagination. It is away from the reality.
  2. Discuss story “A passion in the desert” as animal story?
  3. Discuss story “A passion in the desert” as symbolic story.

THE LITTLE WILLOW (FRANCES TOWER)

Characters:

  1. Simon Byrne (A Military Man who loves Lisby)
  2. Lisby (Simple girl who loves Byrne)
  3. Brenda & Charlotte (Sisters of Lisby)
  4. Captain Oliver (Military Man)

Important Points in English:

  1. It is story about silent love.
  2. There was a court house where live three sisters namely Brenda, Charlotte and Lisby.
  3. Military officers visit the court house to eat, drink and marry making.
  4. Brenda and Charlotte are not serious type of girls.
  5. Simon comes in the court house and when Lisby watches and thinks that she is meeting with a man like her kind.
  6. They fall in love with each other Simon praises a picture that is somewhat old.
  7. When Simon goes she gives him a little willow as gift and says to him to come back again.
  8. Simon gives a good answer that if he could not come physically, he would come spiritually.
  9. After months, Lisby comes to know from the Captain Oliver that Simon had died during war.
  10. Oliver further says that the Simon loved the girl who has given him the little willow tree as a gift.
  11. Lisby starts to weep.
  12. Brenda is sorting some letters out and says to Lisby that there was no letter for her.
  13. Lisby says that she has got her letter already.

Summary of the Story in Urdu:

:تعارف

دی لٹل ولو (بید کا چھوٹا سا درخت) محبت کی ایسی کہانی ہے جس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ کہانی دو نوجوان اور پاکیزہ دلوں کی کہانی ہے جو باہمی محبت سے دھڑکتے تھے اور ایک دوسرے کو نہیں بتاتے تھے کہ وہ کس طرح دھڑکتے ہیں۔ یہ کہانی سوزکی کہانی ہے جو انسانی دل کو موم کر کے رکھ دیتی ہے۔ اس کہانی میں افسردگی اورغم کا ماحول پایا جاتا ہے۔ جو جنگ کے دوران نوجوان سپاہی جب رخصت پر ہوتے تو انہیں تفریح کی ضرورت ہوتی تھی اور وہ شارلٹ اور برنڈا کے گھر آجاتے۔ وہاں پکنک مناتے اور تفریح کرتے اور آرام کرتے۔ یہ ایک عممدہ کہانی ہے کیونکہ لزبی اس میں موجود ہے اور اس میں سائمن برن موجود ہے۔ اس میں رابرٹ الیور بھی موجود ہے۔ کہانی میں ایسے لوگوں کی موجودگی ہمارے سروں کو بلند کر دیتی ہے کیونکہ یہ نیک لوگ ہیں اور یہ لوگ مصیبت میں صبر کرنے والے اور موت میں بہادر ہوتے ہیں۔

اس کہانی میں ہمیں خاموشی محبت کے متعلق بتایا گیا ہے جولزبی اور سائمن برن کے درمیان موجود تھی۔ سائمن برن ایک فوجی سپاہی تھا۔ دونوں میں سے کسے نے بھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا۔ لیکن دونوں کے دل محبت سے دھڑکتے تھے۔ کہانی کے مطالعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ لزبی کی دو بہنیں اور تھیں۔ ایک کا نام چارلٹ اور دوسری کا نام برنڈا تھا۔ وہ جنگل میں واقع ایک مکان میں رہتی تھی۔ مکان خفیہ جگہ پر بنا ہوا تھا۔ میدان جنگ سے بھاگے ہوئے سپاہی اس مکان میں پناہ لیتے تھے اور وہاں پر وہ دونوں بہنوں سے محبت کرتےاور گپ شپ لگاتےمذاق کرتے۔

شارلٹ اور برنڈا لمبی اور پر کشش لڑکیاں تھیں۔ ان کا ذوق بہت بلند تھا۔ اور وہ تصویروں، موسیقی اور ڈرامے کی دلدادہ تھیں۔ وہ بلند چھتوں والے کمروں کو سجا کر رکھتیں اور مہمانوں کی خوب تواضع کرتی تھیں۔ ان کا ذوق بہت بلند تھا۔ وہ تصویروں، موسیقی اور ڈرامے کی دلدادہ تھیں۔ وہ بلند چھتوں والے کمروں کو سجا کر رکھتیں اور مہمانوں کی خوب تواضح کرتی تھیں۔ وہ جادوگرنیاں تھیں اور اپنے حسن سے ہر آنے والے کو مسحور کر دیتی تھیں۔ وہ بھاگنےوالے سپاہی سے محبت کرتیں اور جب وہ وہاں سے رخصت ہونے لگتیں تو وہ انہیں فراموش کردیتں اور دوسروں کے دلوں میں بس جاتیں۔ ان کی چھوٹی بہن لزبی ایک معصوم لڑکی تھی۔ وہ خاموش طبع اور زرد رنگ کی لڑکی تھی لیکن اس کا دل پرجوش اور روح معصوم تھی۔ اس کو چاہنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ مہمانوں کی خاطرتواضع کرتی اور ان مہمانوں کے ساتھ ہم کلام ہوتی جن کلام کو اس کی بڑی بہنیں پسند نہ کرتی تھیں۔

ایک دن اس کی بڑی بہن شارلٹ کا دوست ان کے گھر ایک اجنبی کے لے کر آیا۔ اس کا تعلق جنوبی افریقہ سے تھا۔ وہ لندن میں بالکل اجنبی تھا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہواتو تو اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ لزبی وہاں بیٹھی ہوئی تھی۔ اسکا چہرہ خوشی سے جگما اٹھا۔ جب اس نے لزبی کو وہاں بیٹھے دیکھا۔ لزبی نے اس بات کو محسوس کیا اور اس کا دل بھی محبت سے دھڑکنے لگا۔

لزبی کے پاس بید کا چھوٹا درخت تھا جو بہت قمیتی اور بلوری شیشے کا بنا ہوا تھا۔ اس نے ایک کی تنخواہ جو بحثیت استاد اسے ملی تھی اس پر خرچ کی تھی۔ یہ درخت اس کے لئے بہت قیمتی تھا۔ جب اس شام سائمن برن وہاں سے جانے لگا تو اس نے درخت اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور اس کے لئے اپنی پسند کا اظہار کیا اور محبت کی۔ سائمن برن پھر بھی کئی دفعہ اس گھر میں آیا۔ آخری جدائی کی شام لزبی نے اس بید کے درخت کا تحفہ دیا۔ اس نے لزبی کا شکریہ ادا کیا اور اس نے وعدہ کیا کہ وہ دوبارہ اس گھر میں ضرور آئے گا اگر جسمانی طور پر نہیں تو روحانی طور پر ضرور آئے گا۔

آخر کار جنگ ختم ہو گئی۔ رچرڈ ہارکز شارلٹ کو بیاہ کر لے جانے کے لئے جرمنی کی جیل سے آیا۔ رجرڈ ہارکز نے بتایا کہ سائمن برن اس کے ساتھ ایک کممپ میں قیدی تھا اور پچھلے سال مر گیا۔ لزبی یہ سن کر بہت روئی۔ لیکن سائمن برن کی طرف سے اپنے لئے محبت کا اعتراف کے بعد وہ روحانی طور پرمسرت دکھائی دینے لگی۔ محبت کے اس اعتراف نے اسے ایک نئی طاقت اور سکون عطا کیا۔  

Important Questions:

  1. Discuss the story “Little Willow” as the silent love. What is silent love?
    • Love that is not told by the characters is known silent love.
    • Simon never reveals his love for Lisby to her.
    • Simon praises old picture.
    • He accepts gift from Lisby of little willow.
    • During war he always keeps that willow three along with him.
    • He tells to his mother that she loves the girl who given little willow and after that he tells to companion Captain Oliver.
  2. What is the symbolic importance of willow tree?
    • Little willow stands for silent love.
  3. What type of girl Lisby is?
    • Lisby is teacher by profession.
    • She is contrary to her sisters.
    • Brenda and Charlotte are inconsistent and boys hunter.

Ruqia

Well! This is Ruqia living in Lahore, Pakistan. I am very glad to inform my valuable users visiting my website that I am a blogger. My ambition to work online is to facilitate the people of my community. As far as my hobbies are concerned, I love to play Badminton, Swimming and obviously watching cricket. My passion is to connect with good people around the world.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close