Rappacinni's Daughter by Nathanial Hawthorne | BA English Notes • Vision Mag
BA English

Rappacinni’s Daughter by Nathanial Hawthorne | BA English Notes

Vissionmag brought complete notes of BA English. In this post we will discuss about Rappacinni’s daughter. This is the story of Professor Rappacinni. The professor is scientist and he used her daughter to experiment. Beatrice was the name of daughter. He has only one daughter who is really beautiful but she was confined in a house. She was only allowed to visit a garden following by her residence. Garden was a poisoned and thus girl was also victimized of poison. One day she was wondering in the garden and during this moment Giovanni who is student came here to get education saw her. Giovanni started to love Beatrice. However story ends with the death of Beatrice. We have divided the post in multiple section as per following detail

Character

1. Professor Rappacinni A scientist
2. Beatrice Daughter of Rappacinni
3. Giovanni Lover of Beatrice
4. Professor of Baglioni Prof. of Botany at Padua University & friend of Prof. Rappacinni

Summary in English

  1. Giovanni comes to study at Padua University.
  2. He states in a room of which window opens towards the garden.
  3. He observes that garden carefully.
  4. Beatrice comes to the garden. She is looking after the garden.
  5. Beatrice is a beautiful 35 years old girl.
  6. She has not been allowed by her father to meet anyone outsider.
  7. She was confined to his house and a poison garden only.
  8. Giovanni at his first glimpse falls in love with Beatrice.
  9. Love between Beatrice and Giovanni is reflecting (both love each other)
  10. One day he observes some strange incidents such as:-
    1. She plucks a flower from a bush, a drop of water falls on the head of insect, it dies instantly.
    1. Once some insects were flying over her head, she gives forth her breath, the insects die at once.
  11. Professor Baglioni had already warned to Giovanni about the family and deadly science of Prof. Rappacinni.
  12. Giovanni has now been confirmed that Beatrice is a poison girl but despite of all that his love for Beatrice continues.
  13. Baglioni gives antidote to Giovanni for Beatrice because she would become a normal girl so that Giovanni can continue have relationship with her.
  14. Giovanni gives antidote the Beatrice. She knows that this antidote will work against her despite of this she takes it to prove her true love and dies instantly. She says while breathing last that “I would rather have been loved not feared.
  15. Meanwhile Professor Rappacinni and Professor Baglioni came into the room. Professor Baglioni says that is it result of your experiments? Your only daughter has been died now.   

Summary in Urdu

رپے چینی کی لڑکی، یہ ایک تصواتی کہانی ہے۔ رپے چینی جڑی بوٹیوں کا مشہور سائنسدان ہے۔ وہ اٹلی میں رہتا ہے۔ اسے جڑی بوٹیوں اور پودوں پر تحقیق کرنے کا بہت شوق تھا۔ اسے زہریلے پودے اگانے کا جنون تھا۔  وہ ایک حریص، لالچی اور خود غرض انسان تھا۔ وہ انسانیت کی بجائے سائنس کی دریافتوں اور ایجادات میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ وہ جڑی بوٹیوں سے ایسی دوائی تیار کرنا چاہتا تھا جو انسان کو دوسروں کے لئے زہریلا اور خطرناک بنا سکے۔ لیکن خود ہر قسم کے زہر سے محفوظ ہو جائے۔ اس نے ایک فارمولا دریافت کیا جس کی مدد سے اس نے اپنی بیٹی کے جسم میں چند زہریں داخل کیں۔ اس کی بیٹی کا نام بیٹرس تھا۔ وہ ہر قسم کے زہر سے محفوظ ہوگئی لیکن وہ خود ایک مہلک زہر بن گئی۔  ڈاکٹر رپے چینی کا پودوں اور پھولوں کا ایک باغ تھا۔ اس میں پانی کا ایک تلاب تھا۔ اس تالاب میں مختلف قسم کے پتے اور شاندار پھول اگے ہوئے تھے۔

بیٹرس کا تعارف

بیٹرس ڈاکٹر کی خوبصورت بیٹی تھی۔ وہ تندرست اور توانا تھی۔ وہ مہلک پودوں کے درمیان رہتی اور ان میں سانس لیتی تھی۔ جب وہ باغ میں کام کرتی تواسے ایک نوجوان لڑکا گیوانی اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھتا رہتا۔ کھڑکی اس کے باغ میں کھلتی تھی۔ گیوانی پڑھنے کے لئے اٹلی کے جنوب سے آیا تھا اوروہ پیڈوا یونیورسٹی میں پڑھتا چاہتا تھا۔ اس نے بیٹرس کو پسند کر لیا اور اسے محبت کرنے لگا۔

پروفیسر باگ لیانی کا تعارف

گیووانی نے بیٹرس کے متعلق اپنی استاد باگ لیانی سے گفتگو کی۔ باگ لیانی یونیورسٹی میں سائنس کا مشہوراستاد تھا۔ باگ لیانی ڈاکٹر رپے چینی اوراس کی بیٹی کے متعلق اچھی رائے نہیں رکھتا تھا۔ اس نے گیوانی کو بتایا کہ ڈاکٹر رپے چینی ایک ایک اسی مہلک زہر بنا رہا ہے جو بنی نوع انسان کے لئے تباہ کن ہے۔ اس نے گیوانی کو تنبہ کی کہ وہ ڈاکٹر رپے چینی اور اس کی بیٹی سے جتنا ہو سکے بچ کر رہے۔

گیوانی بیٹرس کاعشق

نوجوان عاشق کھڑکی سے اپنی محبوبہ کو کام کرتے دیکھتا رہتا۔ ایک شام اس نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ بیٹرس اپنے باغ میں کام کر رہی تھی۔ اس نے ایک پودے سے پھول توڑا اور اسے اپنے چھاتی کے قریب لے آئی۔ اس لمحے ایک سنگتری رنگ کا جانور اور اس پودے کے قریب آیا۔ اس پھول کے رس کے ایک یا دہ قطرے اس جانور کے سر پر گرے اور یہ جانور فوری طور پر مر گیا۔  اگلے لمحے باغ کی دیوار پر ایک خوبصورت کیڑا نظر آیا بیٹرس نے اس کیڑے کو ایسی بچگانہ مسرت سے دیکھا کہ وہ بے ہوش ہو گیا اور اس کے قدموں میں آگرا۔ گیوانی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پھولوں کو بیٹرس کی طرف پھینکا بیٹرس نے اس تحفے کوقبول کر لیا۔ اس نے ان پھولوں کو چھاتی کے ساتھ لگایا تو وہ مرجھا گے۔ گیوانی اس کی اس مافق الفطر طاقت پر خوفزدہ ہو گیا۔ اس نے اپنی مالک مکان کی مدد سے بیٹرس کو ملنے کا پروگرام بنایا۔ وہ اسے باغ میں اور اسے معلوم ہواکہ کہ باغ میں اگے ہوئے پھول فطری نہیں تھے۔ ان کے درمیان بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ایک دوسرے کے قریب ہو گئے۔ ان کی محبت پاک تھی اور یہ جسمانی محبت نہیں تھی۔ اس کی بیٹرس سے باقاعدہ ملاقاتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود بھی ایک زہریلا انسان بن گیا۔

بیٹرس کی موت: اس نے کیڑے پر سانس لیا اور وہ بھی مر گیا وہ بیٹرس کے پاس گیا اس نے بیٹرس پر زہریلا ہونے کا الزام لگایا۔ بیٹرس نے اعتراف کیا کہ وہ بلاشبہ زہریلی ہے لیکن اس میں اس کا کوئی قصور نہ ہے۔ اس کے والد کی سائنس کے ساتھ جنون کی حد تک محبت نے اسے معاشرے سے علیحدہ کر دیا ہے۔ اس کا جسم زہریلا ہے لیکن اس کی روح خدا کی تحلیق ہے اور پاک ہے۔ اس کی روح کو روز مرہ کی خوارک کے طور پر محبت کی ضرورت ہے۔ گیوانی نے اس ایک دوائی پلائی جو اس کے تمام زہروں کو ختم کر سکتی تھی۔ اس نے دوائی پی اور وہ فورا مر گئی۔ اس کی موت بہت الم ناک تھی۔ وہ اپنے باپ کی سائنس کا شکار ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ مرتے مرتے بیٹرس نے کہا کہ کاش مجھے سے محبت کی جاتی مجھے ازمایا نہ جاتا۔  

Expected Question

  1. Discuss the story as fantasy
    1. Fantasy means a story which is written on imaginations and far away from the realistic approach of life.
  2. Discuss story as a science fiction.
  3. Discuss the story as love story.
  4. Character of Professor Rappacinni.
  5. Characterization of Professor Baglioni.
  6. A war between good and evil.  

Ruqia

Well! This is Ruqia living in Lahore, Pakistan. I am very glad to inform my valuable users visiting my website that I am a blogger. My ambition to work online is to facilitate the people of my community. As far as my hobbies are concerned, I love to play Badminton, Swimming and obviously watching cricket. My passion is to connect with good people around the world.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close